ہوتا ہے۔دوزخ سے مراد آئندہ دوزخ نہیں بلکہ اس دنیا میں مصائب شدائدکا نظارہ مراد ہے۔اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ کافر کے لیے دوزخ بہشت کے رنگ میں اور مومن کے لیے بہشت دوزخ کے رنگ میں متمثل کیا جاتا ہے۔کافر جو دنیا کا طالب ہے دنیا میں منہمک ہو کر سگِ دنیا ہو جاتا ہے۔مومن ایک عاشق ہے جو دنیا کو طلاق دے کر ہر ایک تکلیف سہنے کو تیار ہوتا ہے اور فی الواقعہ یہ عشق ہی ہے جو اُسے ہر قسم کی تکلیف سہنے کے لیے آمادہ کر دیتا ہے۔مومن کا رنگ عاشق کا رنگ ہوتا ہے اور وہ اپنے عشق میں صادق ہوتا ہیاور اپنے معشوق یعنی خدا کے لیے کامل اخلاص اور محبت اور جان فدا کرنے والا جوش اپنے اندر رکھتا ہے اور تضرع اور ابتہال اور ثابت قدمی سے اس کے حضور میں قائم ہوتا ہے۔دنیا کی کوئی لذت اس کے لیے لذت نہیں ہوتی۔اس کی روح اسی عشق میں پرورش پاتی یہ۔معشوق کی طرف سے استغنا دیکھ کر وہ گھبراتا نہیں۔اس طرف سے خاموشی اور بے التفاتی بھی معلوم کر کے وہ کبھی ہمت نہیں ہارتا بلکہ ہمیشہ قدم آگے ہی رکھتا ہے اور دردِ دل زیادہ سے زیادہ پیدا کرتا جاتا ہے۔ان دونوں ثیزوں کا ہونا ضروری ہے کہ مومن عاشق کی طرف سے محبتِ الٰہی میں پورا استغراق ہو۔عشق کمال ہو۔محبت میں سچا جوش اور عہد عشق میں ثابت قدمی ایسی کوٹ کوٹ کے بھری ہو کہ جس کو کوئی صدمہ جنبش میں نہ لا سکے اور معشوق کی طرف سے کبھی کبھی بے پروا ہی اور خاموشی ہو۔دد دو قسم کا موجود ہو۔ایک تو وہ جو اﷲ تعالیٰ کی محبت کا درد ہو۔دوسرا وہ جو کسی کی مصیبت پر دل میں درد اُٹھے اور خیر خواہی کے لیے اضطراب پیدا ہو۔اور اس کی اعانت کے لیے بے چینی پیدا ہو۔خدا تعالیٰ کی محبت کے لیے جو اخلاص اور درد ہوتا ہے اور ثابت قدمی اس کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے‘ وہ انسان کو بشریت سے الگ کر کے الوہیت کے سایہ میں لاڈالتا ہے۔جب تک اس کی حد تک درد اور عشق نہ پہنچ جائے کہ جس میں غیر اﷲ سے محویت حاصل ہو جائے اس وقت انسان خطرات میں پڑا رہتا ہے۔ان خطرات کا استیصال بغیر اس امر کے مشکل ہوتا ہے کہ انسان غیر اﷲ سے بکلی منقطع ہو کر اسی کا ہو جائے اور اُس کی رضا میں داخل ہونا بھی محال ہوتا ہے اور اس کی مخلوق کے لیے ایسا درد ہونا چاہیے جس طرح ایک نہایت ہی مہربان والدہ اپنے ناتواں پیارے بچے کے لیے دل میں سچا جوشِ محبت رکھتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ سے تعلق کے لیے محویت کی ضرورت خد اتعالیٰ ایک تعلق چاہتا ہے اور اس کے حضور میں دعا کرنے کے لیے تعلق کی ضرورت ہے۔بغیر تعلق کے دعا نہیں ہوسکتی۔پہلے بزرگوں کی بھی اس قسم کی باتیں چلی آئی ہیں کہ جن سے دعا کرنے والوں کو دعا کرانے سے پہلے تعلق ثابت کر نے کی تاکید کی۔خواہ نخواہ بازار میں