پر ہیں۔ اس کا تو فیصلہ آسان ہے۔ دنیا میںد یکھ لے کہ کیا وہ دنای کی بلائوں پر صبر کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں تو پھر یہ کیونکر سمجھ لیا کہ عذاب جہنم کو برداشت کر لیں گے۔ بعض لوگ تو دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں مگر یہ لوگ اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ یقینا سمجھو کہ جہنم کا عذاب بہت ہی خطرناک ہے اور یہ بھی یاد رکھو کہ ال تعالیٰ نے صاف طور پر فرمایا دیا ہے ومن یبتغ غیر الاسلام دینا ھلن یقبل منہ (ال عمران : ۸۶) یعنی جو سخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا خواستگار ہو وہ آخر کار ٹوٹے میں رہے گا۔ جس طرح پر انسان کا ایک حلیہ ہوتا ہے اور وہ اسی سے شناخت کیا جاتا ہے اسی طرح پر اﷲ تعالیٰ کی ذات اور اس کے صفات بھی ایک طرح پر واقع ہوئے ہیں۔ یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ مختلف مذاہب والے خدا تعالیٰ کی جو سکل اور صفات پیس کرتے ہیں وہ سب کی سب درست ہوں۔ عیسائی، ہندو، چینی ہر ایک جدا جدا صفات پیش کرتا ہے پھر کون عقلمند یہ مان لے گا کہ ہر ایک اپنے اپنے بیان میں سچا ہے۔ سچے مذہب کی علامات ماسوا اس کے سچائی کے خود انوار و برکات ہوتے ہیں۔ یہ بھی تو دیکھنا ثاہیے کہ وہ نشانات اور انوار و برکات کس خدا کو مان کر ملتے ہیں اور کس دین میں وہ اپئے جاتے ہیں۔ ایک شخص ایک نسخہ کو استعمال کرتا ہے اگر اُس نسخہ میں کوئی خوبی اور اثر ہے تو صاھ ظاہر ہے کہ چند روز کے استعمال کے بعد ہی اس کی مفید تاثیریں معلوم ہونے لگیں گی۔لیکن اگر اس میں کوئی خوبی اور تاثیر نہیں ہے تو خواہ ساری عمر اُسے استعمال کرتے جائو کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اس معیار پر اسلام اور دوسرے مذاہب کی سثائی اور حقیت کا بہت جلد پ کہتا ہوں کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنی تاثیر اور انوار و برکات کے لیے کسی گذشتہ قصہ کا حوالہ نہیں دیتا اور نہ صرف آئندہ کے وعدہ ہی پر رکھتا ہے بلکہ اس کے پھل اور آثار ہر وقت اور ہر زمانہ میں پائے جاتے ہیں اور اسی دنای میں ایک سچا مسلمان اُس ثمرات کو کھا لیتا ہے۔ بتلائو ایسے مذاہب انسان کو کیا امید دلا سکتے ہیں جن میں توبہ تک منظور نہیں۔ ایک گناہ کر کے جب تک کروڑوں جونین نصیب نہ ہولیں خد اتعالیٰ سے صلح ہی نہیں ہو سکتی وہاں کیا پائے گا۔ اس کی روح کو راحت اور تسلی کیونکر مل سکے گی۔ مذہب کی سچائی کی بری علامت یہ ہے کہ اس راہ سے دور افتا دہ خدا تعالیٰ کے نزدیک آجاتا ہے۔ جیسے جیسے وہ نیک عمل کرتا جاوے۔ اسی اسی قدر تاریکی دور ہو کر معرفت اور روشنی آتی جاوے اور انسان خود محسوس کرلے کہ وہ نجات کی ایک یقینی راہ پر جارہا ہے۔ اس کی ہدایتیں ایسی صاف اور واضح ہوں کہ انسان ان کے ماننے اور اس پر عمل کرنے میں اٹکے نہیں۔