تعلقات کو ایسا مضبوط کر لیتا ہے کہ وہ ان کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ ایسی صورت میں ناممکن ہے کہ یہ نجات کا دروازہ اس پر کھل سکے۔ یہ ایک قسم کی نامردی اور کمزوری ہے لیکن یہ شہیدوں اور مردوں کا کام ہے کہ ان تعلقات کی ذرا بھی پروا نہ کرے اور خد اتعالیٰ کی طرف قدم اُٹھائے۔
بعض کمزور فطرت لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت ہی کرنی ہے خواہ کسی مذہب میں ہوں۔ مگر وہ نہیں جانتے کہ آج جس قدر مذاہب موجود ہیں ان میں کوئی بھی مذہب بجز اسلام کے ایسا نہیں جو اعتقادی اور عملی غلطیوں سے مبرا ہو۔ وہ سچا اور زندہ خد اجس کی طرف رجوع کرکے انسان کو حقیقی راحت اور روشنی ملتی ہے۔ جس کے ساتھ تعلق پیدا کرکے انسان اپنی گناہ آلود زندگی سے نجات پاتا ہے۔ وہ اسلام کے سوا نہیں مل سکتا۔ یہی پہلا زینہ ہر قسم کی روحانی ترقیوں کا ہے۔ اگر اس کی توفیق مل جاوے تو پھر خد ااس کا اور وہ خداکا ہو جاتا ہے۔یہ سچ ہے کہ جب ایک شخص محض اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی قسم کی نفسانی اغراض کے بغیر ایک قوم سے قطع تعلق کرتا ہے اور خد اہی کو راضی کرنے کے لیے دوسری قوم میں داخل ہوتا ہے تو ان تعلقات قومی کے توڑنے میں سخت تکلیف اور دکھ ہوتا ہے مگر یہ بات خد اتعالیٰ کے نزدیک بڑی قابل قدر ہے اور یہ ایک شہادت ہے جس کا بڑا اجراﷲ تعالیٰ کے حضور ملتا ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ تو فرماتاہے۔
ھمن یعمل مثقال زرۃ خیر ایرہ (الزلزال : ۸)
یعنی جو سخص ایک ذرہ برابر بھی نیکی کرتا ہے اُسے بھی ضائع نہیں کرتا بلکہ اجر دیتا ہے تو پھر جو سخص اتنی بری نیکی کرتا ہے اورخدا تعالیٰ کی رضا کے لیے ایک موت اپنے لیے روا رکھتا ہے اسے اجر کیوں نہ ملے؟ جو سخص خدا تعالیٰ کے لیے اپنے تعلقات کو توڑتا ہے وہ فی الحقیقت ایک موت اختیار کرتا ہے کیونکہ اصل موت بھی ایک قسم کا قطع تعلق ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ کے لیے ان تعلقات کو توڑناجو اپنی قوم اور خویش و اقارب سے ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے۔ بسااوقات یہ روک بری زبردست روک انسان کو خد اکی طرف آنے کے لیے ہو جاتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ دوستوں کا ایک گروہ ہے۔ ماں باپ، بہن بھائی اور دوسرے رشتہ دار ہیں ان کی محبت اور تعلقات نے اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کی ہوتی ہے کہ وہ اسلام کی صداقت اور سثائی کو تسلیم کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ بجز اس کے نجات نہیں۔ لیکن ان تعلقات کی بنا پر اقرار کرتا ہے کہ یہ راہجس پر میں ثلتا ہوں خطرناک اور گندی راہ ہے مگر کیا کریں جگہنم میں پڑنا منظور ان قومی تعلقات کو کیونکر چھوڑدیں۔ ایسے لوگ نہیں جانتے کہ یہ صرف زبان سے کہنا تو آسان ہے کہ جہنم میں پرنا منظور ۔ اگر انہیںاس دکھ درد کی کیفیت معلوم ہو تو پتہ لگے۔ ایک آنکھ میں ذرا درد ہوت و معلوم ہو جاتا ہے کہ کس قدر تکلیف ہے۔ پھر جہنم تو وہ جہنم ہے جس کی بابت قرآن شریف میں آیا ہے۔
لا یموت فیھا ولا یحیی (طہ : ۷۵)
ایسے لوگ سخت غلطی