نور عرفان کا نہ رہا۔
اس کے بعد حضور اپنے زمانہ طالب علمی اور شیعہ اُستاد کے بعض حالات بیان فرماتے رہے جس سے معلوم ہوا کہ یہ قوم کہاں تک حقائق و معارف سے محروم رہ گئی۔؎ٰ
۹؍اگست ۱۹۰۵ء
دربار شام
حقیقی دین سے محروم رہ جانے کا باعث
پشاور سے ایک نوجوان ہندو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کے واسطے آیا ہوا تھا۔ اس نے مختصراً اپنے حالات بیان کئے کہ کس طرح پر الحکم کے پڑھنے اور ایک احمدی کی صحبت نے اُسے مشتاق زیارت بنایا۔ اس تحریک پر حضرت حجۃ اﷲ نے ذیل کی تقریر ھرمائی۔
سب سے بڑی بات تو دین ہے جس کو حاصل کر کے انسان حقیقی جوشحالی اور راحت کو حاصل کرتا ہے۔ دنیا کی زندگی تو بہر حال گذرہی جاتی ہے ؎
شب تنور گذشت و سب سمور گذست
یعنی راحت اور رنج دونوں گذر جاتے ہیں لیکن دین ایک ایسی ثیز ہے کہ اس پر ثل کر انسنا خدا تعالیٰ کو راضی کر لیتا ہے۔یقینا جانو کہ اﷲ تعالیٰ اس وقت تک راضی نہیں ہوتا اور نہ کوئی سخص اس تک پہنچ سکتا ہے۔ جبتک صراط مستقیم پر نہ چلے۔ وہ اسی وقت ہو سکتا ہے۔ جب اﷲ تعالیٰ کی ذات صفات کو شناخت کرے اور ان راہون اور ہدایتوں پر عملدرآمد کرے جو اس کی مرضی اور منشاء کے موافق ہیں۔جب یہ ضروری بات ہے تو انسان کو چاہیے کہ د ین کو دنیا پر مقدم کرے اور یہ کچھ مشکل امر نہیں۔دیکھو انسان پانچ سات روپیہ کی خاطر جو دنیا کی ا دنیٰ ترین خواہش ہے اپنا سرکٹا لیتا ہے۔ پھر جب اﷲ تعالیا کو راضی کرنے کا خیال ہو اور اسے راضی کرنا چاہے تو کیا مشکل ہے۔
انسان حقیقی دین سے کیوں محروم رہ جاتا ہے اس کا بڑا باعث قوم ہے۔ خویش و اقارب دوستوں اور