حضرت منشی احمد جان کا ذکر خیر
منشی احمد جان صاحب مرحوم و مغفور مشہور صوفی لودھیانوی کے ذکر خیر میں حضرت حکیم الامت نے عرض کیا کہ انہوں نے طب روحانی کے سلسلہ میں اور بھی دو تین جلدیں لکھنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن حضور کے دعویٰ کو سن کر اُنہوں نے اس طریق کو چھوڑ دیا اور اسے محض کھیل تماشہ قرار دیا۔ جس سے مجھے ان کے ساتھ بری محبت ہو گئی۔
حضرت حجۃاﷲ نے فرمایا :
مجھے بھی اُنہوں نے ایسا ہی خط لکھا تھا۔
دعا ہی اصلیت ہے
غرض آپ کا ذکر خیر ہوتا رہا۔ ان کے اخلاص کے ذکر میں توجہ اور سلب امراض کے علم کا ذکر ہوا۔ اس پر فرمایا۔
اﷲ تعالیٰ نے اسلام میں جو طریق شفا کا رکھاہے وہ تو دعا ہی کا طریق ہے۔اپنے نفس اور توجہ پر بھروسہ کرنا یہ بھیا یک قسم کا شرک ہے۔ لیکن جب انسان خد اسے دعا کرتا ہے تو یہ سب باتیں فنا ہو جاتی ہیں۔اور انسان پھر اصل پناہ کی طرف دورتا ہے۔ پس یاد رکھو کہد عا ہی اصلیت ہے۔ باقی جو کچھ ہے وہ نرا خبط ہے۔
دعا کی عجیب عجیب تاثیریں میں نے تجربہ کی ہیں۔ایک بار میں درد دانت سے سخت تکلیف میںتھا عمر دراز نام ایک گرد اور ہمارے ہاں آیا ہوا تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ دانت کے درد کا علاج بھی آپ کو معلوم ہے۔ اس نے کہا۔علاج دنداں اخراج دنداں۔ میں نے جب یہ بات سنی تو خیال کیا کہ دانت کا نکلوانا بھی ایک عذاب ہی ہے۔میں اس وقت ایک چٹائی پر بیٹھا ہوا تھا اور درد کی بیقراری کی وجہ سے سر چار پائی کی پائنتی پر رکھا ہوا تھا۔ اس وقت مجھے ذرا سی غنودگی ہوئی اور الہام ہوا واذا مرضت فھو یشفی اور اس کے ساتھ ہی معاً درد جاتا رہا۔
میں یقینا جانتا ہوں کہ دعا کے سلسلہ میں ہزارہا خزائن معارف کے مخفی ہیں۔ جو سخص دوسری طرف توجہ کر یگا وہ ان خزائن سے محروم رہ جائے گا کیونکہ جب انسان اس راہ کو جس پر سایہ دار درخت ہوں اور پانی کا سامان ہو چھوردے تو وہ ان تمام آرام کے سامانوں سے محروم رہے گا یا نہیں کسی کے پہلو میں دو دل تو نہیں ہو سکتے ایک ہی طرف توجہ کرے گا۔
فرق ضالہ نے اسی وجہ سے نقصان اُٹھیا کہ حقیقی راہ کو انہوں نے چھوڑ دیا۔ شیعہ وغیرہ جو حسین حسین پکارتے رہے اسی سبب سے محروم رہے کہ اُنہوں نے انسان کو بت بنالیا۔ اور ان کے سینہ میں وہ