۸؍اگست ۱۹۰۵ء؁ دربار شام موجودہ دنیا کی حالت فرمایا : آج میں نے بارش کے لیے دعا کی تھی۔ دعا کے ساتھ ہی دل میں یہ خیال گذرا کہ یہ حبس اور امساک باراں اﷲ تعالیٰ کے قضاو قدر کے موافق ہے اور اس میں دخل دینا مناسب نہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے : ’’دنیا میں ایک نذیر آیا لیکن دنیا نے اسے قبول نہ کیا۔ پر خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا‘‘۔ ہر قسم کے مصائب شدائد اس کے زور آور حملوں میں آتے ہیں اور یہ سب ایک قسم کی پیسگوئیاں ہیں اور جو کچھ ہو رہا ہے بہر حال ہمارے لیے مفید ہے۔ کیا عجب کہ قحط کے رنگ میں بھی کوئی حملہ ظاہر ہونے والا ہو۔ فرمایا : دنیا کی حالت اور رنگ دیکھا جاوے تو وہ بہت کچھ بدلا ہوا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ایسی حالت ہو گئی ہے کہ گویا حسن ظن کا موقعہ ہی نہیں رہا۔ کیونکہ اگر ہر پہلو سے بد ظنی ہی ظاہر ہو تو انسان کہانتک اس پر حسن ظن کرے گا۔ میں حیران ہوتا ہوں جب دیکھتا ہوں کہ دنیا میں سوائے دہریت، مکروفریب کے اور کوئی بات نظر نہیں آتی ۔ بالکل طبیعتیں دنیا ہی پر مائل ہو گئی ہیں یہاں تک کہ دنیا دین کا کام بھی اگر کوئی اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس میں بھی ان باتوں کا دخل ہے۔ یا تو وہ محض دنیا کا لالچ ہے یا دنیا کی ملونی ہے۔ ایسی حالت میں میںنے سوچا کہ اگر کوئی مرتا ہے تو پھر مرے۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ لوگ تو اور اور باتوں کے لیے روتے ہین۔ میں کہتا ہوں کہ اور باتوں کو چھوڑو مجھے تو اس کا فکر ہو رہا ہے کہ خد اکی ہستی ہی پر ان کو یقین نہیں رہا۔ اس مقام پر حضرت حکیم الامت نے عرض کی کہ کل میں نے اپنے درس میں ایک موقعہ پر اپنی جماعت کو خطاب کر کے کہا کہ سنو! تم نے اس سلسلہ میں داخل ہو کر کیا کیا؟ دنیا تو تم پر لعنت بھیجتی ہے اگر خد اتعالیٰ کے ساتھ ہی تمہارا معاملہ صاف نہ ہو۔ اور باہم بغض، کینہ اور دشمنی رہی تو پھر خد اسے کیا لیا؟ حضرت اقدس نے فرمایا : خدا سے کای لینا تھا۔ کچھ بھی نہیں۔ بالکل سچ ہے۔