وہی خیالات مسلمانوں میں منتقل ہو کر اور احادیث کی گلط فہمی بھی ساتھ مل کر یہ فاسد عقیدہ پید اہو گیا اور کتابوں میں درج ہو گیا؛ ورنہ صدر اسلام میں اس کا نام و نشان نہ تھا، بلکہ تمام نبیوں کی موت پر اجماع تھا۔ لیکن ان لوگوں مین بھی بہتیرے ایسے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑکی موت کے قائل ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ تو تین دن تک مرے رہے۔ کوئی کہت اہے کہ سات دن تک مرے رہے اور کوئی ہمیشہ کے لیے ان کا مرجانا مانتا ہے۔ بہرحال اصل اجماع اسلامی وہ ہے جو صحابہؓ کے درمیان ہوا۔ صحابہع میں سب سے پہلا اجماع اسی مسئلہ پر ہوا کہ تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں۔بغیر اس کے صحابہؓ کو آنحضرت ﷺ کے مرنے کے بعد کبھی صبر نہیں آسکتا تھا۔ یہ مبارک اجماع حضرت ابو بکرع کے زریعہ سے ہوا۔ اور اگر کسی کو یہ وہم تھا بھی کہ کوئی نبی زندہ ہے تو وہ بھی دور ہو گیا اور اس طرح آنحضرت ﷺ کی موت کا صدمہ صحابہؓ کے دل سے اُٹھا کہ نبی تو سب مراہی کرتے ہیں۔ اگر کسی فرد واحد کو قصور درایت کے سبب کچھ غلطی لگی ہوئی تھی تو وہ بھی دور ہو گئی۔ خود خد اتعالیٰ کے کلام میں اس امر کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ کوئی آسمان پر نہیں جاتا۔ جہاں آنحضرت ﷺ سے کفار نے آسمان پر چڑھنے کا معجزہ طلب کیا تو فرمایا : قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرا رسولا (بنی اسرائیل : ۹۴) یعنی بشر رسول کبھی کوئی آسمان پر نہیں چڑھا۔ اور فرمایا۔ وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات اوقتل (ال عمران : ۱۴۵) یعنی کوئی نبی نہیں جو فوت نہیں ہو چکا۔ پس اگر یہ نبی مر جائے یا قتل کیا جائے تو کیا تم دین سے پھر جائو گے۔ کتب سماوی اور تاریخ زمانہ بھی یہی شہادت دیتی ہیں۔ کوئی نظیر ایسی نہیں کہ پہلے کوئی دو چار نبی آسمان پر گئے ہوں۔ خود مسیح نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ یوحنا ہی الیاس ہے۔ ہاں جس طرح آدمؑ۔ موسیٰ ؑ۔نوحؑ اور دوسرے نبی آسمان پر گئے اسی طرح بیشک حضرت عیسیٰ بھی گئے تھے؛ چنانچہ شب معراج میں آنحضرت ﷺ نے سب کو آسمان پر دیکھا۔ حضرت عیسیٰ کی کوئی خصوصیت نہ تھی۔ افسوس ہے کہ ان لوگوں کی قوت شامہ ہی ماری گئی ہے خود زمانہ کی حالت سے بو آتی ہے کہ ایسا عقیدہ رکھنا عیسائیت کی پہلی اینٹ ہے۔ بعض لوگ میری نسبت اعتراض کرکے کہتے ہیںکہ میں نے بھی براہین میں ایسا ہی لکھا تھا مگر وہ نہیں سمجھتے کہ یہی بات ہماری صداقت کی گواہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم کوئی منصوبہ بازی نہیں کرتے۔ خود اسی کتاب براہین میں ہمارا نام مسیح رکھ اگیا اور خد اتعالیٰ کے تمام وعدے اسی کے اندر ہیں۔ اگر یہ غلطی مجھ سے براہین احمدیہ میں صادرنہ ہوتی تو ایک بناوٹ معلوم ہو سکتی تھی۔؎ٰ