ارادہ ہے کہ باہر جا کر علیحدگی میں نماز پڑھوں اور دعا کروں۔ خلوت میں اﷲ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرنے اور دعا مانگنے کا جو لطف ہے وہ لوگوں میں بیٹھ کر نہیں ہے۔اور بھی دعائوں کا ذخیرہ ہے۔ اسی مطلب کے واسطے میں نے باغ میں ایک چھوٹی سی مسجد بنائی ہے جس کو مسجد البیت کہنا چاہیے۔
فرمایا :۔ پیغمبر خدا ﷺ کے حالات دورنگ کے تھے۔ ایک ظاہر اور ایک مخھی۔ آپﷺ کی پہلی عبادت وہی تھی جو آپؐ نے غار حرا میں کی۔ جہان کئی کئی دن ویرانہ پہاڑی کی غار میں جہاں ہر طرح کے جنگلی جانور اور سانپ چیتے وگیرہ کا خوھ ہے دن رات اﷲت عالیٰ کے حضور میں عبادت کرتے تھے اور دعائیں مانگتے تھے۔
قاعدہ ہے کہ جب ایک طرف کی کشش بہت برھ جاتی ہے تو دوسری طرف کا خوف دل سے دور ہو جاتا ہے۔ بعض عورتوں کو جو بہت ہی ڈرنے والی طبیعت کی ہیں۔دیکھ اگیا ہے کہ کسی بچے کی بیماری کے وقت اندھیری راتوں میں ضرورتاً ایسی جگہ جاتی ہیں جہاں دن کو نکلنا ان کے واسطے دشوار ہے۔ ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھاکہ وہ زلزلہ کے وقت خوف سے اونچے مکان سے نیچے کودنے لگا۔ لوگوں نے پکڑ لیا۔
جب خوف الٰہی اور محبت غالب آتی ہے تو باقی تمام خوف اور محبتیں زائل ہو جاتی ہیں ایسی دعا کے واطے علیحدگی بھی ضروری ہے۔ اسی پورے تعلق کے ساتھ انوار ظاہر ہوتے ہیں اور ہر ایک تعلق ایک ستر کو چاہتا ہے۔
ایک ہی خواہش فرمایا :
آجکل حبس اور گرمی اور برسات کی کمی کسی امر کی تمہید ہے جو آگے ظاہر ہوگا۔ معلوم نہیں کہ کیا ہونیوالا ہے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ ہر چہ باداباد۔ مگر خد اکی ہستی دنیا پر ثابت ہو جائے اور دین اسلام کی حقیقت ظاہر ہو جائے خواہ کسی طرح سے ہو۔
وفات مسیح اجماعی مسئلہ ہے
ایک شخص نے ساول کیا کہ اسلامی کتب میں حیات مسیح کی بات کہان سے آگئی؟
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ :
یہ بات ایسی ہی ہے جیسا کہ ہند کے مسلمان رسوم شادی و مرگ اب تک پرانے ہندوئوں کی طرف ادا کرتے ہیں۔ جب بہت سے عیسائی اور یہودی مسلمان ہوئے تو کثھ پرانے خایلات کا بقیہ ساتھ لائے۔