چھوٹی مسجد کے متعلق طاہر کیا گیا ہے اور دوسری جگہ وہی الہام بڑی مسجد کے متعلق ظاہر کیا گیا ہے۔
حضرت نے فرمایا :
بعض الہام بار بار کئی دفعہ ہوتے ہیں اور ہر دفعہ وہ جدا شان رکھتے ہیں انی مھین من اراد اھانتک والا الہام بہت دفعہ ہوا ہے اور ہر دفعہ اس کا طہور کسی نئے رنگ میں ہوا ہے۔ ہر دفعہ اہانت کنندہ اور اہانت یافتہ کوئی نیا وجود ہوتا رہا ہے۔ ایسا ہی الہام انی مع الافواج اتیک بغتۃ بہت کثرت سے ہوا ہے۔ اور ہمیشہ خدائی فوجوں کی نصرت سے ایک نیا معجزہ پید اہوا ہے۔ اسی طرح اکثر الہامات بار بار ہوتے ہیں اور ہر دفعہ کوئی نیا رنگ رکھتے ہین۔ اسی طرح قرآن شریف میں بھی بہت سی آیات میں جو اپنے اپنے موقعہ پر جدا مطابقت رکھتی ہیں؛ اگر چہ ظاہر الفاظ ایک ہی ہیں۔ اﷲتعالیٰ کی صفت ہے۔
کل یوم ھوھی شان (الرحمٰن : ۳۰)
لیکن وہ مقامات کتب مجھے دکھانے چاہیے جن پر یہ سوال پیدا ہوا ہے۔
حقیقت روح القدس
کسی شخص کا سوال پیس ہوا کہ آپ نے جبرائیل کے متعلق جو تحریر کی ہے اس سے یہ طاہر ہوتا ہے کہ آپ کا خیال بھی سید احمد کی طرح ہے کہ روح الامین انسان کے اندر ہی ہے اور اس کے سوائے کوئی اور روح القدس اور جبرائیل نہیں ۔ فرمایا :
یہ بالکل غلط ہے۔ سید احمد کے ساتھ اس معاملہ میں ہامرے خایل کو کوئی مطابقت نہیں۔ ہمارا منشاء یہ ہے کہ اﷲت عالیٰ کی طرف سے روح الامین کا نزول انسان پر اس وقت ہوتا ہے جبکہ انسان خود تقدس اور تطہر کے درجہ کو حاصل کر کے اپنے اندر بھی ایک حالت پیدا کرتا ہے جو نزول روح الامین کے قابل ہوتی ہے۔ اس وقت گویا ایک روح الامین ادھر ہوتاہے تب ایک اُدھر سے آتا ہے۔ یہ بات ہم اپنے حال اور اپنے تجربہ سے کہتے ہیں نہ کہ صرف قال ہی قال ہے۔ اس کی بجلی کے ساتھ خوب مثال مطابق آسکتی ہے۔ جب کسی جسم میں خدو بھی بجلی ہتی ہے تو آسمانی بجلی اُس پر اثر کتی ہے۔ تدبر سے دیکھا جائے تو قرآن شریف سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔
خلوت میں عبادات اور دعا کا لطف
آجکل سخت گرمی پڑنے اور برسات یک نہ ہونے کا ذکر تھا۔ فرمایا :
ایسے موقعہ پر نماز استسقاء کا پڑھنا سنت ہے۔ میں جماعت کے ساتھ بھی سنت ادا کروں گا۔ مگر میرا