وہ دین کو دنیا پر مقدم نہ کر لیتے تو کیونکر ممکن تھا کہ وہ اپنی جانوں کو اس طرح پر خدا کی راہ میں دیدیتے۔ لکھا ہے کہ ایک صحابی کے ہاتھ میں کچھ کھجوریں تھیں اور وہ کھا رہا تھا۔ اسے معلوم ہوا کہ دوسرا شہید ہو گیا ہے۔ اس نے اپنے نفس کو سخت ملامت کی کہ تیرا بھائی شہید ہو گیا ہے اور تو ابھی باقی ہے۔ یہ تھی ان لوگوں کی ایمانی حالت۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دین کے ساتھ دنیا جمع نہیں ہو سکتی۔ ہاں خدمتگار کے طور پر تو بیشک ہو سکتی ہے لیکن بطور شریک کے ہر گز نہیں ہو سکتی۔ یہ کبھی نہیں سناگیا کہ جس کا تعلق صافی اﷲ تعالیٰ سے ہو وہ ٹکڑے مانگتا پھرے۔ اﷲتعالیٰ تو اس کی اولاد پر بھی رحم کرتا ہے۔ جب یہ حالت ہے تو پھر کیوں ایسی شرطیں لگاکر ضدیں جمع کرتے ہیں۔ ہماری جماعت میں وہی شریک سمجھنے چاہئیں جو بیعت کے موافق دین کو دنیا پر مقدم کرتے ہیں۔جب کوئی شخص اس عہد کی رعایت رکھ کر اﷲ تعالیٰ کی طرف حرکت کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کو طاقت دے دیتا ہے۔ صحابہؓ کی حالت کو دیک کر خوشی ہوتی ہے کہ کیٰ نے ان کو پاک صاف کر دیا۔ حضرت عمر کو دیکھو کہ آخر وہ اسلام میں آکر کیسے تبدیل ہوئے۔ اسی طرح پر ہمیں کیا خبر ہے کہ ہماری جماعت میں وہ کون سے لوگ ہیں جن کے ایمانی قوی ویسے ہی نشونما پائیں گے۔ اﷲ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے۔ اگر ایسے لوگ نہ ہوں جن کے قویی نشونما پاکر ایک جماعت قائم کرنے والے ہوں تو پھر سلسلہ ثل کیسے سکت اہے۔ مگر یہ خوب یاد رکھو کہ جس جماعت کا قدم خد اکے لیے نہیں اس سے کیا فائدہ؟خدا کے لیے قدم رکھنا امر سہل بھی ہے جبکہ خدا تعالیٰ اس پر راضی ہو جاوے اور روح القدس سے اس کی تائید کرے۔ یہ باتیں پیدا نہیں ہوتی ہیں ۔ جبتک اپنے نفس کی قربانی نہ کرے اور نہ اس پر عمل ہو۔ اما من خاف مقام ربہ ونھی النھس عن الھوی فان الجنۃ ھی الماوی (الناز عات : ۴۱، ۴۲) سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہشتی زندگی اسی دنای سے شروع ہو جاتی ہے۔ اگر ہوائے نفس کو روک دیں۔ صوھیوں نے جو فنا وغیرہ الفاظ سے جس مقام کو تعبیر کیا ہے وہ یہی ہے کہ نھی النفس عن الھوی کے نیچے ہو۔ ۷؍اگست ۱۹۰۵ء؁ قبل از عشاء بار بار ہونے والے الہامات ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ ایک جگہ مبارک و مبارک و کل امرمبارک یجعل فیہ والا الہام