سنتے ہی قبول کر لیا۔ ایسے لوگوں کے لیے کسی نشان کی حاجت نہیں ہوئی۔جو لوگ اس قسم کی شرائط پیش کرتے ہیں کہ اس قدر آمدنی ہو جاوے تو ایمان لائیں گے وہ گویا یہ سمجھتے ہین کہ ایمان لا کر اﷲ تعالیٰ پر یا اس کے رسول پر احسان کرتے ہیں۔ وہ احمق نہیں جانتے کہ ال تعالیٰ کو اُن کی پروا کیا ہے۔ یہ تو اﷲ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہدایت کی راہ ان کو بتائی۔ اور اپنے مامور کو ہدایت کے واسطے بھیجا۔ یہ اﷲ تعالیٰ کا صاف احسان ہے۔ وہ الٹا خد اتعالیٰ پر احسان رکھنا چاہتے ہیں۔ قرآن شریف میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نشان اﷲ کے پاس ہیں۔ اور دوسری جگہ فرماتا ہے۔ زمین و آسمان میں نشان…ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ کیسے بیوقوف ہیں جو اتنا نہیں سمجھتے کہ یہ وقت کسی نبی کی ضرورت کا ہے یا نہیں۔ حالت زمانہ خود اس پر شہادت دیتی ہے۔ پھر اس سے بڑھ کر اور وہ نشان چاہتے ہیں؟
ہر شخص اس امر کا محتاج ہے کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہو اور وہ اطمینان کے ساتھ اس دنیا سے جاوے۔جب اس امر کی ضرورت ہے تو یہ شرط کیسی بیہودہ اور فضول ہے کہ وہ کام ہو یا اس قدر آمدنی ہو تو بیعت کروں گا۔ ضرورت جوہر وقت مد نظر ہونی چاہیے وہ تو حسن انجام کی ضرورت ہے۔
میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں کیون ہوتی ہیں۔ اس لیے کہ اﷲ تعالیٰ کی عظمت دل پر نہیں ہے۔ اگر اﷲ تعالیٰ کے جلال و جبروت کا دل پر اثر ہو اور اس کی ہستی پر ایمان ہو تو دل ڈر جاوے اور یہ فسق و فجور اور شرورنفسانی جس میں دنیا مبتلا ہے اس سے نجات پاجائیں اور اس کی طرف آنے میں ایسی شرطیں نہ لگائیں۔
کیسی حیرانی کی بات ہے۔کیا بیمار طبیب کے پاس جا کر اُسے کچھ نذرانہ دیتا ہے یا اس سے یہ شرط کرتا ہے کہ اگر میں اچھا ہو جائوں تو مجھے اس قدر نذرانہ دینا؟
جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف آتے ہی نہیں۔ ان کا مقصد اور گرض تو وہ کمبخت دنیا ہوتی ہے جس کو وہ پیس کرتے ہیں۔ اُن کے دل میں یہ سوز و گداز اور جلن نہیں کہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ تعلق ہو اور اس کی طرف دلی رجوع اور توجہ ہو جاوے اگر یہ قلق اور کرب پیدا ہو تو ایسی باتیں نہ کریں کیونکہ بیمار خواہ جسمانی ہو یا روحانی جب وہ اپنی مرص کو محسوس کر لیتا ہے تو وہ بے اختیار ہو کر تڑپتا پھرتا ہے اور طبیب کے کہنے پر اس قدر ایمان لات اہے کہ جو کچھ وہ دیدے۔ اسے اپنی بہتری کے لیے کھالیتا ہے۔ یہ عجیب بات کہ آنا تو دین کی طرف اور اس کے لیے دنیا کی شرط لگانا!!!
بعض لوگ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں کہ ذرا دنای کا کوئی ابتلا پیش آجاوے تو سارا جوش ٹھنڈا ہو جاتا ہے ۔ اگر ایسے ہی لوگ ہماری جماعت میں داخل ہوں تو ان سے کیا فائدہ اورصحابہع سے کای مقابلہ۔ صحابہؓ کی عجیب حالت تھی۔ اُن کے بیوی بچے بھی تھے۔ پھر بھی ہزاروں خدا تعالیٰ کی راہ میں مارے گئے۔ اگر