پہلو کا ظہور ہوا۔ پھر جب آپؐ فاتح ہو کر ایک بادشاہ کی حیثیت سے داخل ہوئے تو حالانکہ آپ ان سب کو قتل کر سکتے تھے اور اس قتل میں حق پر بھی تھے لیکن باوجود مقدرت کے ان سب کو معاف کر دیا جس سے آپؐ کے کمال ایثار، سخاوت، عفو اور درگزر کا ثبوت مل گیا۔ حضرت مسیح کو یہ موقعہ نصیب نہیں ہوا۔ اور وہ ان دونوں پہلوئوں کو ظاہر نہیں کرسکے۔؎ٰ ۵؍اگست ۱۹۰۵ء؁ دربار شام سلسلہ کے لیے کشش حضرت حجۃ اﷲ کے تشریف فرما ہوتے ہی ایک حاجی صاحب درد نے پیش ہو کر بیعت کی درخواست کی جس پر اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ ایک دو دن کے بعد کر لینا۔ اس کے بعد سلسلہ کلام یوں شروع ہوا کہ : کثرت کے ساتھ لوگ اس سلسلہ میں داخل ہو رہے ہیں بظاہر اس کے وجوہ اور اسباب کا ہمیں علم نہیں۔ہماری طرف سے کون سے واعظ مقرر ہیں جو لوگون کو جا کر اس طرف بلا تے ہیں یہ محض خد اتعالیٰ کی طرف سے ایک کشش لگی ہوئی ہوتی ہے جس کے ساتھ لوگ کھچے چلے آتے ہیں۔ یہی حال یہان بھی ہے کہ اس نے ایک کشش رکھ دی ہے۔ جہاں تک اﷲ تعالیٰ اس سلسلہ کو پہنچانا چاہتا ہے اس حدتک اس نے کشش رکھ دی ہے۔ مشروط بیعت پھر ذکر آیا کہ بعض لوگ بیعت کے خطوط بھیجتے ہیں تو اُن میں درج ہوت اہے کہ ہمارا فلاں کا م ہو جاوے یا اس قدر روپیہ مل جاوے تو بیعت کریں گے۔ اس پر فرمایا :۔ ایسی شرائط والے ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔ صدیقی ھطرت والے تو کسی نسان یا معجزہ کا طلب کرنا اپنی ہتک شان سمجھتے ہیں۔ حضرت ابو بکرؓ صدیق نے کون سے نشانات دیکھے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ عرب کی موجودہ حالت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ کوئی مصلح آوے۔ اور جب آنحضرت ﷺ نے دعویٰ کیا تو آپؐ کے اخلاک اور آپؐ کی راستبازی ہی ایک عظیم السان معجزہ ان کے واسطے ہو گئی اور انہوں نے دعویٰ کے