انبیاء کی خلوت پسندی اصل بات یہ یہ کہ جب اﷲ تعالیٰ کے ساتھ اُنس اور ذوق پیدا ہو جاتا ہے تو پھر دنیا اور اہل دنیا سے ایک نفرت اور کراہت پیدا ہو جاتی ہے۔ بالطبع تنہائی اور خلوت پسند آتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بھی یہی حالت تھی۔ اﷲ تعالیٰ کی محبت میں آپ اس قدر فنا ہو چکے تھے کہ آپ اس تنہائی میں ہی پوری لذت اور ذوق پاتے تھے۔ ایسی جگہ میں جہاں کوئی آرام کا اور راحت کا سامان نہ تھا اور جہاں جاتے ہوئے بھی ڈرلگتا ہو آپ وہاں کئی کئی راتیں تنہا گذار تے تھے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کیسے بہادر اور شجاع تھے۔ جب خدا تعلق شدید ہو تو پھر شجاعت بھی آجاتی ہے اس لیے مومن کبھی بزدل نہیں ہوتا۔ اہل دنیا بزدل ہوتے ہیں۔ اُن میں حقیقی شجاعت نہیں ہوتی ہے۔ اس بات کو سن کر خدا تعالیٰ سے جس قدر تعلقات شدید ہوتے ہیں اور ایسے لوگ تنہائی اور خلوت کو پسند کرتے ہیں بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ پھر ان نبیوں اور رسولوں کے بیوی بچے کیوں ہوتے ہیں؟ وہ بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ ایسا اعتراض کرنے والے نہیں سوچتے کہ ان لوگوں کی تو ایسی مثال ہے جیسے ایک شخص تو کسی کے دروازے پر بھیک مانگنے جاوے اور ایک اس کا دوست ہو اور وہ محض اس سے ملنے ہی کے لیے گیا ہو۔ اب اگر وہ دوست اپنے دوست کے سامنے پلائو وغیرہ لا کر رکھ دیتا ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے؟ اس دوست کو تو اس کے کھانے میں لذت آتی ہے اور وہ گدا جو ہے اس کو خشک روٹی کا ٹکڑا دے دیا جاتا ہے۔ اگر زیادہ ٹھہرے تو پھر دھکے دے کر باہر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ معاملہ دوست سے نہیں ہوتا بلکہ اس کے زیادہ قیام اور اس کے کھانے پینے سے خود اُسے ایک لذت آتی ہے۔ یہی حال ان نبیوں اور ماموروں کا ہوتا ہے۔ ان کے سامنے جو کچھ آتا ہے وہ اُن کی نفسانی خواہشوں کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ وہ تو ساری لذت اور راحت اﷲ تعالیٰ ہی کے ذکر اور شغل میں پاتے ہیں اور فی الحقیقت تنہائی ہی کو پسند کرتے ہیں جہاں وہ اپنے محبوب سے اپنے دل کی آرزو ئیں اور تمنّائیں پیس کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس حالت مین کوئی ان کو دیکھ نہ لے علاوہ بریں یہ تعلقات ان کی تکمیل کے لیے ہوتے ہیں۔ میں نے بارہا بیان کیا ہے کہ اخلاق کے سارے پہلو پورے نہیں ہوتے جب تک ہر قسم کی حالتیں پیش نہ آئین ۔نبیوں اور رسولوں کے لیے شدائد اور مشکلات بھی آتے ہیں اور یہ مشکلات بھی ان کے اخلاق کی تکمیل کے لیے ہوتی ہین۔ آنحضرت ﷺ کے جیسے تمام اخلاق کا اظہار ہوا ہے کسی دوسرے کو یہ موقع نہیں ملا ۔ مکہ معظمہ مین جبتک آپؐ رہے تو ہر قسم کی تکالیف اور مشکلات کا سامنا رہا جس میں آپؐ کے کمالِ صبر اور رضا بالقضا کے