ہوتے تھے کہ کوئی انہیں خدا کہے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ اُن کو نہ کسی نے اوستاد؎ٰ کہا اور نہ انہوں نے کہلوایا۔ پھرایک اور توجیہہ کرتے ہیں کہ دراصل وہ شخص منافق تھا۔ اس لیے حضرت مسیح گویا خفا ہوئے کہ تو نیک کیوں کہتا ہے کیونکہ تو مجھے نہیں جانتا۔ یہ بھی بالکل غلط بات ہے کہاں سے معلوم ہوا کہ وہ منافق تھا۔ غرض اصل بات یہی ہے کہ خد اتعالیٰ کے برگزیدہ بندے اپنی عبودیت کا اعتراف کرتے رہتے ہیں اور دعائوں میں لگے رہتے ہیں۔ احمق ان باتوں کو عیب سمجھتے ہیں۔ اگر آنحضرت ﷺ کی دعائوں کو دیھکا جاوے توپھر ایسے احمق اعتراض کرنے والے تو خد ا جانے کیا کیا کہیں ۔ جیسے۔ الھم باعد بینی وبین خطا یا ی کما باعدت بین المشرق والمغرب۔ ۲؎ گرمیوں کو روحانی ترقی کے ساتھ مناسبت ہے ایک مخلص نے پہار پر جانے کے لیے اجازت چاہی۔اس کے متعلق تذکرہ آنے پر فرمایا:- اﷲ تعالیٰ کے وعدے بالکل سچے ہیں جبکہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کوئی عذاب شدید آنے والا ہے تو اس کا کوئی وقت تو ہمیں معلوم نہیں ہے اس لیے بڑی احتیاط کرنی چاہیے۔ پہاڑوں پر کای ہے۔ ہم تو گرمیان یہاں ہی بسر کرتے ہیں کوئی ایسی تکلیف نہیں ہوتی، بلکہ میں ایک مرتبہ ڈلہوزی گیا۔ کسی مقدمہ کی تقریب تھی۔ جب میں وہاں پہنچا تو خلاف عادت دیکھا نہ گرمی ہے نہ پسینہ آتا ہے۔ بارش ہوتی ہے اور بدل گھروں میں اندر گھُس آئے۔ ہر وقت اندر بیٹھے رہنا نہ چلنے پھرنے کے لیے موقعہ ہے۔ اگر ہر روز چائے نہ پئیں تو اسہال آجائیں۔ ایک دو دن میں نے گذارے پھر سخت تکلیف محسوس ہونے لگی اور میں جب تک پٹھانکوٹ نہ پہنچ گیا طبیعت میں نشاط اور انشراح پیدا نہ ہوا۔ ان کو لکھ دو کہ وہ یہان آجائیں۔ اگر بارش ہوتی رہی تو یہاں بھی موسم اچھا ہے اور ۱۵؍ستمبر تک تو امید ہے موسم میں بڑی تبدیلی ہوجائے گی۔ فرمایا : میں دیکھتا ہوں کہ گرمیوں کو بھی روحانی ترقی کے ساتھ خاص مناسبت ہے۔ آنحضرت ﷺ کو دیکھو کہ آپؐ کو اﷲ تعالیٰ نے مکہ جیسے شہر میں پید اکیا اور پھر آپ ان گرمیوں میں تنہا غار حرا میں جا کر اﷲ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے وہ کیسا عجیب زمانہ ہوگا۔ آپؐ ہی ایک پانی کا مشکیزہ اُٹھا کر لے جاتے ہوں گے۔