داربار شام (نوٹ ازایڈیٹر) شام کی تاریکی قلمبند کرنے کی اجازت نہ دیتی تھی اس لیے میں نے خدا داد قوت حافظہ کی مدد سے اپنے الفاظ میں اس روئداد کو لکھا ہے جو بزرگ اس اجلاس میں موجود تھے وہ اسے پڑھ کر انشاء اﷲ سمجھ لیں گے کہ میں اس کے لکھنے میں بہت بڑی حد تک کامیات ہوا ہوں۔ والحمد ﷲ علیٰ ذالک (ایڈیٹر الحکم) انبیاء کے کلام میں عجزوانکسار کا اظہار سلسلہ کلام اس امر سے شروع ہوا کہ تمام نبیوں اور راستبازوں کے کلام میں عجزو انکسار کے الفاظ اور اپنی کمزوری کا اظہار پایا جاتا ہے اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔حضرت حجۃاﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو اشتہار متعلقہ زلزلہ میں اس قسم کے الفاظ استعمال کئے ہیں ان پر مولوی محمد حسین بٹالوی نے اعتراض کیا ہے۔ اعلیٰ حضرت نے میرے معزز بھائی مفتی محمد صادق صاحب کو غالباً بائبل میں ایسے مقامات دیکھنے کے لیے ارشاد فرمایا تھا۔ اس کا ذکر مفتی صاحب نے کیا۔ اس پر اعلیٰ حضرت نے فرمایا : اس قسم کے الفاظ تمام نبیوں کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ چونکہ ان کی معرفت بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے اور وہ اﷲ تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مقام کو شناخت کرتے ہیں۔ اس لیے نہایت انکسار اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔ نادان جن کو اس مقام کی خبر نہیں ہے۔ وہ اس پر اعتراض کرتے ہیں؛ حالانکہ یہ ان کی کمال معرفت کا نشان ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ کے لیے اذا جاء نصراﷲ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین اﷲ افواجا فسبح بحمد ربک واستغفرہ انہ کان توابا (النصر : ۲-۴) آیا ہے۔ اس میں صاف فرمایا ہے تو استغفٰر کر۔ اس سے کای مراد ہے؟ اس سے یہی مراد ہے کہ تبلیغ کا جو عذیم الشان کام تیرے سپرد تھا۔ دقائقِ تبلیغ کا پورا پورا علم تو اﷲ تعالیٰ ہی کو ہے اس لیے اگر اس میں کوئی کمی رہی ہو تو اﷲ تعالیٰ اُسے معاف کر دے۔ یہ استغفار تو نبیوں اور راستبازوں کی جان بخش اور عزیز چیز ہے۔ اب اس پر اندان اور کو تاہ اندیش عیسائی اعتراض کرتے ہیں۔ جہاں استغفار کا لفظ اُنہوں نے سُن لیا۔ جھٹ اعتراض کر دیا؛ حالانکہ اپنے گھر میں دیکھیں تو مسیح کہتا ہے کہ مجھے نیک مت کہہ۔ اس کی تاویل عیسائی یہ کرتے ہیں کہ مسیح کا منشاء یہ تھا کہ مجھے خدا کہے۔ یہ کیسے تعجب کی بات ہے۔ کیا مسیح کو ان کی والدہ مریم یا اُن کے بھائی خدا کہتے تھے جو وہ یہی آرزو اس شخص سے رکھتے تھے کہ وہ بھی خد اکہے۔ اُنہوں نے یہ لفظ تو اپنے عزیزوں اور شاگردوں سے بھی نہیں سنا تھا۔ وہ بھی اُستاد۔ اُستاد ہی کہا کرتے تھے۔ پھر یہ آرزو اس غریب سے کیونکر ان کو ہوئی۔ کیا وہ خوش