اس کے متعلق پیشگوئی کرتے چلے آئے ہیں۔؎ٰ ۳؍اگست ۱۹۰۵ء؁ خدا تعالیٰ کی تازہ وحی رؤیا میں دیکھا کہ ایک لفافہ ہے جس میں کچھ پیسے ہیں۔ کچھ پیسے اس میں سے نکل کر باہر سامنے بھی پڑے ہیں۔ اس کے بعد الہام ہوا : ’’تیرے لیے میرا نام چمکا‘‘ فرمایا : اس الہام سے پہلے اگر چہ خواب میں پیسے دیکھے گئے جو کسی جھگڑے یا غم پر دلالت کرتے ہیں مگر وحی الٰہی صریح لفظوں میں دلالت کرتی ہے کہ اس کے بعد کوئی نشان ظاہر ہو گا جس کے واقعہ سے خدا تعالیٰ اپنے نام اور اپنی ہستی کو لوگوں پر ظاہر کرے گا۔ ؎ٰ الہام کا دروازہ کھلا ہے فرمایا: جیسا ہمارے علماء کا عقیدہ ہے کہ اب الہام کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔ اگر یہ سچ ہوت اتو ایک عارف طالب تو زندہ ہی مر جاتا۔ خدا بخیل نہیں ہے۔ اس نے خود صراط الذین انعمت علیہم (الفاتحہ : ۷) کی دعا سکھائی ہے جس میں ظاہر کیا گیا ہے کہ ان نعمتوں کا دروازہ کھلا ہے۔ افسوس ہے کہ مولوی عبد اﷲ صاحب غزنوی کا بھی یہی مذہب تھا کہ ہم نہیں جانتے کہ ہمیں جو الہام ہوتا ہے وہ شیطانی ہے یا الہامی۲؎ ہے۔ ہمیں تعجب آتا ہے کہ ان لوگوں کا ایسے الہام اور اس عقیدہ کے بعد کیا حال ہوتا ہے۔ اگر اس پر عمل کریں تو ممکن ہے شیطان کے فرمان کی پیروی کرتے ہیں۔ اگر نہ کریں تو یہ شبہ یہ کہ خدا تعالیٰ کو نارض کرتے ہیں۔ یہی حال الٰہی بخش اکونٹنٹ کے الہامات کے ہے۔ اُن سے تو موسیٰ کی مان ہی اچھی رہی جس نے خدا تعالیٰ کے کلام پر ایمان قائم کر کے اپنے بچے کو دریا میں رکھ دیا۔ ۳؎