یکم اگست ۱۹۰۵ء؁ دربار شام سٹروعہ ضلع ہوشیار پور سے آئے ہوئے دو بھائی داخل بیعت ہوئے۔ فرمایا : بیعت میں داخل ہو نیوالوں کے اسماء کو باقاعدہ لکھا جاوے۔ اگر یہ سب نام لکھے جائیں تو ان مشکلات کا سامنا نہ ہو جو بعض وقت پیش آتی ہیں۔ مولوی محمد حسین بٹالوی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ایک خط کا ذکر ہوا جو اُنہوں نے منشی حسین بخش صاحب تحصیلدار پنڈی گھیپ حال رخصتی قادیان کے نام لکھا۔ فرمایا :۔ معلوم نہیں وہ کونسی بدی تھی جس نے اسکو سلسلہ کی شناخت سے محروم رکھا۔ تا ہم جب تک وہ زندہ ہے ہم اس پیشگوئی کی کوئی تاویل نہیں کرتے جو اس کے متعلق ہے کہ وہ آخر رجوع کرے گا۔ میں جانتا ہوں کہ اوائل میں وہ بڑا اخلاص ظاہر کیا کرتا تھا۔ بٹالہ کے سٹیشن پر خود اس نے حامد علی سے لوٹا لے کر مجھے وضو کرایا اور جب میں اُٹھتا تو میرا جوتا اُٹھا کر آگے رکھ دیتا تھا۔ اس میں دوسرے مولویوں کی نسبت ایک بات تو ہے وہ یہ کہ کسی بات کو مان لے تو دلیری کے ساتھ اس کا اعلان کر سکتا ہے۔ مثیلِ مسیح فرمایا : میں حیران ہوں کہ میرا معاملہ تو بالکل صاف تھا۔ تین باتیں تھیں۔ ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کو مثیل موسیٰ بھی تسلیم کر لیا اور امت کے مثل یہود ہو جانے کا بھی اقرار کر لیا۔ اور علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل (حدیث) کو بھی تسلیم کیا۔ ان ساری باتوں کو تو مثیل کے طور پر مانا لیکن مسیح کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ وہی آئے گا۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ یہ تو ایسی ہی مثال ہے جیسے دو بھائی ہیں۔ جب ان میں کوئی تقسیم ہو تو ہر ایک قسم کی چیزیں انہیں دی جاتی ہیں جبکہ آنحضرت ﷺ کی اُمت میں یہودیوں کے مثیل مانتے ہیں تو اس میں کیوں موت پڑتی ہے کہ ایک مسیح بھی تسلیم کر لیں۔ فرمایا : میں دیکھتا ہوں۔ براہین میں میرا نام اصحاب الکہف بھی رکھا ہے۔ اس میں یہ سر ہے کہ جیسے وہ مخفی تھے اسی طرح پر تیرہ سو برس سے یہ راز مخفی رہا اور کسی پر نہ کھلا ۔ اور ساتھ اس کے جو رقیم کا لفظ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود مخفی ہونے اس کے ساتھ ایک کتبہ بھی ہے۔ اور وہ کتبہ یہی ہے کہ تمام نبی