ہے۔ لیکن ہزاروں تجارب موت فوت کے اس کے سامنے ہیں اور پھر بھی نصیحت نہیں پکڑتا؛ ورنہ ایک موت ہی کا واعظ اس کی اصلاخ کے لیے کافی تھا۔ جھوٹے قصوں پر ایمان کا نتیجہ جھوٹے قصوں سے جھوٹا بھروسہ پیدا ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آخر اصلیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ جیسے کیمیا کی وہمی باتوں کے بھروسہ میں انسان اگلی دولت بھی کھو بیٹھتا ہے۔ جھوٹے خیالات اور خیالی قصوں کا بھی اثر ایمان پر ہوتا ہے۔ جو لوگ قرآن شریف کو جو اﷲ تعالیٰ کا کلام ہے چھوڑتے ہیں وہ آخر اسی مرض میں گرفتار ہو کر اپانا یمان ضائع کر لیتے ہیں۔ قرآن شریف میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جو انسان کو دھوکا دے۔ اصل میں انسان کے ایمان کی تازگی اسی وقت شروع ہوتی ہے جب وہ اﷲ تعالیٰ ہی پر ایمان لاتا ہے اسی وقت اس کے گناہ دور ہونے لگتے ہیں۔ حقیقی ایمان جب تک پیدا نہیں ہوتا گناہ کی زہر سے انسان بچ نہیں سکتا۔ میرے نزدیک ایمان کی شناخت کا یہی پڑا معیار ہے اور ہر شخص اپنے ایمان کو اس پر آزما سکتا ہے۔ اس لیے دلیل ظاہر ہے کہ جو لوگ سم الفار کو زہر سمجھے ہیں وہ اُسے نہیں کھاتے، اس لیے کہ وہ جانتے ہیں کہ اس کو کھا کر ہلاک ہو جائیں گے۔ اسی طرح پر گناہ بھی ایک زہر یلا پھل ہے جسے کھاتے ہی انسان مر جاتا ہے۔ لیکن اگر اﷲ تعالیٰ پر ایمان ہو تو انسان اس پھر کے نزدیک جانے سے ڈرتا ہے۔ اس پر اس کی ہلاکت کی تاثیروں کا دروازہ کھُل جاتا ہے۔ میں یقینا جانتا ہوں کہ یہ بے حیائی اور کھلی بدکاری کی بیماری جو دنیا میں پھیل رہی ہے یہ درہریت کے روگ سے شروع ہوئی ہے اور اس کی جر کفارہ کے جھٹے فسانے ہیں۔ دنیا پرستی کی وجہ دنیا پرستی کی حد ہو گئی ہے۔ ہر شخص دنیا ہی کا شیدائی نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جدھر آنکھ اُٹھاتا ہے ابنائے دنای ہی کو دیکھتا ہے۔ چونکہ ایسے مخلصوں کی نظیریں بہت ہی کم ہیں جو خدا تعالیٰ کے ساتھ کامل تعالقات کا نمونہ ہوں اس لیے اس طرف توجہ ہی نہیں۔ برخلاف اس کے دنیا پرستوں کی نظیریں نظر آتی ہیں۔ اس لیے ہر شخص اس طرف کو جھکتا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف بہت ہی کم لوگ آتے ہیں کیونکہ خدا کی راہ اختیار کرنا دنیا سے باہر ہو جانا ہے۔ جبتک انسان ایک موت اختیار نہیں کر لیتا اس راہ سے داخل نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے فرمایا ہے۔ مو تو اقبل ان تمولوا۔؎ٰ