کھڑے ہو کر کہا کہ مولوی صاحب اگر یہ کلمہ مرزا صاحب کی کسی نصنیف سے نکال دیں تومیں پانچسو روپیہ ابھی آپ کو نقد انعام دیتا ہوں۔ یہ تحدی سنکر مولوی صاحب چکرائے اور اکثر لوگ بیزار ہو کر حلقۂ وعظ سے اُٹھ گئے مولوی صاحب اپنا سا منہ لے کر واپس آئے۔ حضرت حجۃ اﷲ مسیح موعود ؑ نے فرمایا : ہمارے اور ہمارے مخالفوں کے درمیان یہ فرق ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑکو لا کر امت بناتے ہیں اور ہم اُمت کو مسیح بناتے ہیں۔ ۲؎ بلاتاریخ صحیح علم کی ضرورت اور اس کے حصول کا ذریعہ قوت ذوق شوقِ علم سے پیدا ہوتی ہے۔ جبتک علم اور معرفت نہ ہو کیا ہو سکتا ہے۔ رب زدنی علما (طہ : ۱۱۵) کی دعا میں یہ بھی ایک سر ہے کیونکہ جس قدر آپ کا علم وسیع ہوتا گیا اسی قدر آپ کی معرفت اور آپ کا ذوق شوق ترقی کرتا گیا۔ پس اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے ساتھ محبت میں اسے ذوق شوق پیدا ہو تو اس کو اﷲ تعالیٰ کی نسبت صحیح علم حاصل کرنا چاہیے اور یہ علم کبھی حاصل نہیں ہوتا جبتک انسان صادق کی صحبت میں نہ رہے اور اﷲ تعالیٰ کی تازہ بہ تازہ تجلیات کا ظہور مشاہدہ نہ کرے۔ کامل وفاداری کی ضرورت اﷲ تعالیٰ کے ساتھ صحیح اور سچا تعلق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان پورا وفادار اور مخلص ہو۔ جو شخص وفادار نہیں اگر وہ ہر روز اس قدر روتا رہے کہ اس کے آنسوئوں کا چھپڑ؎ٰ لگ جاوے تو بھی اﷲ تعالیٰ کے نزدیک اس کی کوئی قدر نہیں ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمہارا تعلق خدا تعالیٰ کے ساتھ کامل وفاداری کا نمونہ ہو۔ موت کا واعظ انسان کی عجیب حالت ہے کہ اگر کہیں سانپ نکلے تو اس سے دہشت کھاتا ہے اور جس اندر کی بابت اُسے گمان ہو کہ یہاں سانپ ہے وہاں جاتے ہوئے ڈرتا