ایک الہام فرمایا : آج اﷲ تعالیٰ نے میرا ایک اور نام رکھ اہے جو پہلے کبھی سنا بھی نہیں۔ تھوڑی سی غنودگی ہوئی اور الہام ہوا۔ ’’محمد مفلح‘‘ وَراء الوَراء اسباب زلزلہ کے متعلق مختلف ذکر ہوتے رہے۔ فرمایا : اموری کا پتہ رکھنا چاہیے تا کہ جب پیشگوئیپوری ہو تو اس کو بھی اشتہار بھیجا جاوے۔ فرمایا : عام لوگوں کے علم یہیں تک محدود ہے کہ عام اسباب مادیہ کے ماتحت تحریکات ہوتی ہیں۔ لیکن اسی حدتک ختم کر دینا یہ سخت غلطی ہے۔ قضاو قدر کے اسباب بعض اوقات وراء الوراء ہوتے ہیں اور ان کا تعلق محض کن فیکون سے ہی ہوتا ہے جسے دوسرے لوگ سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اگر یہ اسباب اسی حدتک ہوتے جہانتک یہ لوگ سمجھ بیٹھے ہیں تو پھر تو گویا خدائی ہی کو اپنے قبضہ میں لے آتے۔ پہلی اُمتوں پر جو جو عذاب آئے ہیں۔ اگر ان کے حکماء کو اُن کے اسباب کی خبر ہوتی تو وہ اُن کو بچا کیوں نہ لیتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اسباب وراء الوراء رہتے ۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اس خارقِ عادت نشان سے بہت سے لوگ سیدھے ہو جائیں گے۔؎ٰ ۳۰؍جولائی ۱۹۰۵ء؁ قبل از عشاء مسیح موعود اور آپ کے مخالفین میں فرق حسبِ معمول جب اعلیٰ حضرت قبل عشاء تشریف لائے تو سب سے اول لودھی ننگل کے متصل آئے ہوئے چار آدمیوں نے بیعت کی۔ بعد بیعت تذکرہ ہوا کہ موضع تیجہ متصل لودھی ننگل میں مولوی ثناء اﷲ امرتسری گیا تھا۔ وہاں اس نے مجمع عام میں اثنائے وعظ میں کہا کہ مرزا صاحب کے مرید لاالہ الا اﷲ مرزا غلام احمد رسول اﷲ۔ یہ کلمہ پڑھتے ہیں۔ اس پر ایک مخالف مگر انصاف پسند شخص نے