ہی تشریف لا کر شہ نشین پر اجلاس فرما ہوئے۔ شیخ مظہرالدین صاحب انسپکٹر پولیس پشاور چند روز سے اپنی محترمہ ہمشیرہ صاحبہ کو لے کر آئے ہوئے تھے۔ شیخ صاحب کی ہمشیرہ ایک صدمہ رسیدہ خاتون ہے اور متواتر موت کے صدموں نے انہیں سخت شکستہ خاطر بنادیا ہے۔ وہ اپنے معزز بھائی کے ہمراہ اس غرض سے دارالامن آئی ہوئی تھیں کہ حضرت اقدس سے دعا کرائیں تا کہ دردرسیدہ دل پر سکینت کا نزول ہو اور ئپ کی پراثر نصائح سے اطمینان خاطر ہو۔ حضرت مخدوم الملت نے حضرت حکیم الامت کے اشارہ سے شیخ صاحب کے لیے اجازت چاہی کہ وہ ایک ضروری کام اور تفکر کی وجہ سے جلد جانا چاہتے ہیں۔ فرمایا : میں نے آپ کی ہمشیرہ صاحبہ کو بہت کچھ سمجھایا ہے اور اُن کے لیے دعا بھی کی ہے۔ اور وعدہ بھی کیا ہے کہ دعا کروں گا۔ ہاں اتنی بات ہے کہ آپ یاد دلاتے رہیں۔ مین نے اُن کو کہہ دیا تھا کہ مولویانہ وعظ و نصیحت سے آپ کے دل کو تسلی نہیں ہوگی۔ یہ تسلی تو خدا تعالیٰ کی ہی طرف سے آئے گی کیونکہ جس نے دل بنایا ہے وہ دل پر اثر ڈال سکتا ہے اور یہ سب کچھ دعائوں سے ہی ممکن ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ انہیں بہت فائدہ ہوا ہے۔ فرمایا : دعائوں میں جو روبخدا ہو کر توجہ کی جاوے تو پھر ان میں خارق عادت اثر ہوتا ہے۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دعائوں میں قبولیت خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہے اور دعائوں کے لیے بھی ایک وقت جیسے صبح کا ایک خاص وقت ہے اس وقت میں خصوصیت ہے وہ دوسرے اوقات میں نہیں۔ اسی طرح پر دعا کے لیے بھی بعض اوقات ہوتے ہیںجبکہ ان میں قبولیت اور اثر پیدا ہوتا ہے۔ فرمایا : عام انسان صدموں کو برداشت نہیں کرسکتے۔ یہ انبیاء علیہم السلام ہی کے قلوب ہوتے ہیں کہ وہ ہر قسم کے صدما تاور مشکلات کو برداشت کرتے ہیں اور ذرہ بھی نہیں گھبراتے۔ فرمایا : بعض مقام ایسے ہوتے ہیں کہ تقریر سے دل تسلی پکڑتا ہے۔ لیکن بعض مقام ایسے ہوتے ہیں کہ محض اﷲ تعالیٰ کی رحمت ہی کام کرتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کے کام میں صدہا مخفی اسرار ہوتے ہیں جن کو انسنا کبھی سمجھ لیتا ہے اور کبھی نہیں۔ انسان کو چونکہ آخرت کے ذخیرہ کی ضرورت ہے اور بعض اوقات انسان کے افعال ایسے نہیں ہوتے جو آخرت میں کام دیں اس لیے اﷲ تعالیٰ قضاء و قدر سے اس کا تدارک کر دیتا ہے۔ جس طرح پر انسان روزہ رکھتا ہے تو اس روزہ کے ساتھ سحری بھی ہے اور اس میں اس کو اجازت ہے کہ جو چاہے سو کھائے لیکن قضاء و قدر کا جو روزہ ے اس کے لیے کونسی سحری ہے؟