’’ہاں وہ ایسا کہا کرتی تھیں۔ خدا تعالیٰ نے یہ خواہش بھی ان ی پوری کردی۔ چند روز ہوئے ابھی ہم باغ میں تھے کہ وہ ایک دن سخت بیمار ہو گئیں اور قریب موت کے حالت پہنچ گئی تو کہنے لگیں کہ آج تو منگل ہے اور ہنوز جمعہ دور ہے اور ابھی عبد الحی کی آمین بھی نہیں ہوئی۔ قدرت خدا اُس وقت طبیعت بحال ہو گئی اور پھر خواہش کے مطابق عبد الحی کی آمین کی خوشی بھی دیکھی اور آخر جمعہ کا دن بھی پایا۔ فرمایا: یہ تو وہی بات ہوئی کہ ایک بزرگ کسی شہر میں بہت بیمار ہو گئے اور موت تک حالت پہنچ گئی تب اپنے ساتھیوں کو وصیت کی کہ مجھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔ دوست حیران ہوئے کہ یہ عابد زاہر آدمی ہیں۔ یہودیوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی کیوں خواہش کرتے ہیں شاید اس وقت حواس درست نہیں رہے۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ یہ آپ کیا فرماتے ہیں۔ بزرگ نے کہا کہ تم میرے فقرہ پر تعجب نہ کرو۔ میں ہوش سے بات کرتا ہوں اور اصل واقعہ یہ ہے کہ تیس سال سے میں دعا کرتا ہوں کہ مجھے موت طوس کے شہر میں آوے پس اگر آج میں یہاں مر جائوں تو جس شخص کی تیس سال کی مانگی ہوئی دعا قبول نہیں ہوئی وہ مسلمان نہیں ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ اس صورت میں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہو کر اہل اسلام کو دھوکا دوں اور لوگ مجھے مسلمان جان کر میری قبر پر فاتحہ پڑھیں۔ قدرت خداوندی وہ اس وقت تندرست ہو گیا اور پھر دس پندرہ سال کے بعد شہر طوس میں بیمار ہو کر فوت ہو گیا۔ فرمایا: مرحومہ نے اپنی عمر میں بہت شدائد اور مصائب اُٹھائے۔ کتنی اولاد مر گئی۔یہ مصائب جو قضا وقدر سے انسان پر پڑتے ہیں اس کی کمی پوری کر دیتے ہیں جو انسان سے اعمالِ حسنہ میں رہ جاتی ہے۔ جب حضرت کے ہاں صاحبزادہ میاں بشیر احمد تولد ہوئے تھے تو حصرت نے مرحومہ کو فرمایا تھا کہ یہ تمہارا بیٹا ہے۔اس واسطے بشیر احمد کے ساتھ مرحومہ کو خاص محبت تھی۔ صاحبزادہ بشیر احمد جنازہ کے ساتھ اور دفن کے وقت اس طرح موجود رہے کہ اُن کا چہرہ اس اندرونی محبت کو ظاہر کرتا تھا۔؎ٰ ۲۹؍جولائی ۱۹۰۵ء؁ (قبل از عشاء) دعائوں کی قبولیت کے لوازمات بعد نماز مغرب حضرت حجۃ اﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لے گئے اور عشاء کی نماز کی اذان ہوتے