اپنے خاص بندوں کو ایسے قویٰ عطا کرتے ہیں جن کی توجہ سے سب کام درست ہو جاتے ہیں۔ یہانتک کہ دعا کے ذریعہ سے عمریں بڑھ جاتی ہیں۔
انبیاء خلفت کی ہدایت کے واسطے بہت توجہ کرتے ہیں۔ اسی کی طرف قرآن شریف میں اشارہ ہے کہ
لعلک باخع نفسق (الکھف : ۷)
آنحضرت ﷺ کو مخلوق کی ہدایت کا اس قدر غم تھا کہ قریب تھا کہ اسی میں اپنے آپ کو ہلاک کر دیں۔
ظاہر ی قیل و قال سے کچھ نہیں ہوتا۔ اندرونی صفائی اور روحانیت کی ضرورت ہے۔؎ٰ
۲۸؍جولائی ۱۹۰۵ء
محترمہ فاطمہ زوجہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کا ذکر خیر
حضرت مولوی نور الدین صاحب کی زوجہ کلاں جن کا نام فاطمہ تھا۔ بتاریخ ۲۸؍جولائی ۱۹۰۵ء بروز جمعہ بعد نماز جمعہ اس دارِ فانی سے رحلت فرماگئیں…مرحومہ کو حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ سچا اخلاص اور ایمان تھا۔ کہا کرتی تھیں کہ یہ مولوی صاحب کا احسان ہے کہ ہم نے خدا کے مسیح کو شناخت کر لیا۔لیکن اب تو میرے دل میں خدا کے رسول کی اس قدر محبت ہے کہ اگر کوئی بھی اس سے پھر جائے میں اس سے منہ نہیں پھیر سکتی۔
بعد از عصر مرحومہ کا جنازہ حضرت مسیح موعود ؑ نے بمعہ جماعت کثیر باہر میدان میں پڑھا۔ نماز جنازہ میں دعا کو بہت ہی لمبا کیا۔
قبل از عشاء حضرت مسیح موعود ؑ کی مجلس میں حضرت نے خود ہی مرحومہ کا ذکر کیا۔ فرمایا :
’’وہ ہمیشہ مجھے کہا کرتی تھیں کہ میرا جنازہ آپ پڑھائیں اور میں نے دل میں پختہ وعدہ کیا ہوا تھا کہ کیسا ہی بارش یا آندھی وغیرہ کا بھی وقت ہو میں ان کا جنازہ پڑھائوں گا۔ آج اﷲ تعالیٰ نے ایسا عمدہ موقعہ دیاکہ طبیعت بھی درست تھی اور وقت بھی صاف میسر آیا اور میں نے خود جنازہ پڑھایا‘‘۔
عاجز ۲؎ نے عرض کی ان کی یہ بھی خواہش تھی کہ میری وفات جمعہ کے دن ہو۔ فرمایا: