ایک الہام اور اس کی تشریح کنت کنزامخفیا فاحببت ان اعرف ترجمہ:۔ میں ایک مخفی خزانہ تھا۔ پھر میں نے چاہا کہ میں پہچانا جائوں فرمایا : یہ صفاتِ الٰہیہ کا ظہور ہے کسی زمانہ میں کوئی ایک صفت ظاہر ہوتی ہے اور کسی زمانہ پوشیدہ رہتی ہے جب ایک اصلاح کا زمانہ دور پڑ جاتا ہے اور لوگوں میں خدا شناسی نہیں رہتی تو اﷲ تعالیٰ پھر اپنی معرفت کو ظاہر کرنے کے واسطے ایک ایسا آدمی پیدا کرتا ہے۔ جس کے ذریعہ سے اس کی معرفت دنیا میں پھیلتی ہے لیکن جس زمانہ میں وہ مخھی ہوتا ہے اس زمانہ میں عابدوں کی عبادت اور زاہدوں کے زُہد بھی ادھورے اور نکمے رہ جاتے ہیں۔ یہ الہام براہین احمدیہ میں بھی درج ہے۔ لیکن اب پھر اس کے خاص ظہور کا وقت معلوم ہوتا ہے۔ اس واسطے دوبارہ یہ الہام ہوا ہے۔ باطنی عالمِ اسباب فرمایا: دعا اور توجہ میں ایک روحانی اثر ہے جس کو طبعی لوگ جو صرر رکھنے والے ہیں نہیں سمجھ سکتے۔ سنت اﷲ میں دقیق در دقیق اسباب کا ذخیرہ ہے جو دعا کے بعد اپنا کام کرتا ہے۔نیند کے واسطے طبعی اسبابرطوبات کے بیان کئے جاتے ہیں مگر بہت دفعہ آزمائش کی گئی ہے کہ بغیر رطوبات کے اسباب کے ایک نیند سی ٔجاتی ہے اور ایک حالت طاری ہوتی ہے جس میں سلسلہ الہامات کا وارد ہوتا ہے اور وہ بعض اوقات ایسا لمبا سلسلہ ہوتا ہے کہ انسان بار بار اپنے رب سے سوال کرتا ہے اور رب جواب دیتا ہے۔ ایسا ہی بعض مادی لوگوں نے چند ظاہر اسباب کو دیکھ کر فتویی لگالیا ہے کہ اب زلازل کا خاتمہ ہے اور دوسو سال تک یہاں کوئی زلزہ نہیں آئے گا۔ لیکنیہ لوگ دراصل اﷲ تعالیٰ کے باریک رازوں اور اسباب سے بے خبر ہیں۔ وہ ظاہر عالم اسباب کو جانتے ہیں لیکن اس کا ایک باطنی عالم اسباب بھی ہے ؎ فلسفی کو منکر حنانہ است از حواس اولیاء بیگانہ است اس جہان کے لوگ جب فتنہ و فساد کی کثرت کو دیکھ کر اس کی اصلاح سے عاجز آجاتے ہیں تب اﷲتعالیٰ