ہے۔ دین کے غم و ہم کا موقعہ انہیں کب ملے گا۔ اس زندگی میں مصائب کا آنا ضروری ہے اور انسان کی زندگی کے محدود اوقات میں کوئی نہ کوئی وقت کسی حادثہ اور رنج کا نشانہ ہوتا ہے۔ اگر اسی طرح ایک شخص کی روح دنیا کے بگڑے ہوئے معاملات کی فکر میں پیچ و تاب کھاتی رہے تو وہ وقت صافی اسے کب میسر آئے گا جبکہ اس کا سارا غم و ہم دین ہوگا۔ وہ جماعت جس نے بیعت میں اقرار کیا ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے وہ بھی اگر اسی دلدل میں دن رات پھنسے ہیں تو بتائیں وہ اس نازک عہد کے ایفاء کی طرف کب توجہ فائیں گے۔
فرمایا :
میں تو حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ جب سے مجھے ہوش ہے میں دنیا کے ہم و غم میں کبھی مبتلا نہیں ہوا۔
فرمایا :
جب میری عمر غالباً پندرہ برس کی ہوگی ایک کھتری سے میں نے کہا جو حضرت والد صاحب کے حضور میں بیٹھا ہوا اپنی تلخ کامیابیاں اور نامرادیان بیان کرتا اور سخت کُڑھ رہا تھا۔ میں نے کہا۔ لوگ دنیا کے لیے کیوں اس قدر دُکھ اُٹھاتے اور اس کے غم و ہم میں گرفتار ہیں۔ اس نے کہا تم ابھی بچہ ہو۔ جب گر ہستی ہوگے تب تمہیں ان باتوں کا پتہ لگے گا۔ فرمایاؔ۔ایک عرصہ کے بعد جب غالباً میری عمر چالیس کے قریب ہوگی کسی تقریب سے پھر اسی کھتری سے گفتگو کا اتفاق ہوا۔ میں نے کہا۔ اب بتائو اب تو میں گر ہستی ہوں۔ اس نے کہا ۔ تم تو ویسے ہی ہو۔
فرمایا :
ہر شخص اپنے دل میں جھانک کر دیکھے کہ دین و دنیا میں سے کس کا زیادہ غم اس کے دل پر غالب ہے۔ اگر ہر وقت دل کا رخ دنیا کے امور کی طرف رہتا ہے تو اُسے بہت فکر کرنی چاہیے۔ اس لیے کلماتِ الٰہیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کی نماز بھی قبول نہیں ہوتی۔
فرمایا:
کاش لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آجاتی کہ جس شخص کا تمام ہم و غم دین کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے دنیا کے ہم و غم کا اﷲ تعالیٰ متکفل و متولی ہو جاتا ہے۔ فرمایا:ؔ میں نے کبھی نہیں سنا اور نہ کوئی کتاب گواہی دیتی ہے کہ کبھی کوئی نبی بھوکا مرا ہو یا اس کی اولاد دروازوں پر بھیک مانگتی پھرتی ہو۔ہاں دنیا کے ملوک اور امراء اور اغنیاء کا یہ برا حال اکثر سناگیا ہے کہ اُن کی اولاد نے دربدر ٹکڑے مانگے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی سنتِ مستمرہ ہے کہ کبھی کوئی کامل مومن بستر نرم سے خاکستر گرم پر نہیں بیٹھا اور نہ اس کی اولاد کو روزِ بد دیکھنا نصیب ہوا۔ اگر لوگ ان باتوں پر پختہ ایمان لے آئیں اور سچا اور پاک بھروسہ اﷲ تعالیٰ پر کر لیں تو ہر قسم کی روحانی خود کشی اور دلی جلن سے رہائی پا جائیں۔
فرمایا :
اکثر لوگوں کو اولاد کی آرزو بھی اس خیال سے لگی رہتی ہے کہ کوئی اُن کی مردار دنیا کا وارث پیدا ہو جائے۔ نہیں جانتے کہ اگر وہ بدکار و ناہنجار نکے تو اُن کا کمایا ہوا روپیہ اور اندوختہ فسق و فجور میں ان کا