فرمایا : صحابہ ؓکے درمیان بھی بیوی بچوں والے تھے اور سلسلہ بیماری اور موت فوت کا بھی ان کے درمیان جاری تھا۔ لیکن ان میں ہم کوئی ایسی شکایت نہیں سنتے جیسے کہ اس زمانہ کے بعض نادان شکایت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ دنیا کی محبت کو طلاق دے چکے تھے۔ وہ ہر وقت مرنے کے لیے تیار تھے تو پھر بیوی بچوں کی ان کو کیا پرواہ تھی۔ وہ ایسے امور کے واسطے کبھی دعائیں نہ کرواتے تھے اور اسی واسطے ان میں کبھی ایسے شکائتیں بھی نہ پیدا ہوتی تھیں۔ وہ دین کی راہ میں اپنے آپ کو قربان کر چکے ہوئے تھے۔
بدر جلد ۱ نمبر ۱۶ صفحہ ۲۰؍جولائی ۱۹۰۵ء
۲۴؍جولائی ۱۹۰۵ء
صبر کی تلقین
پشاور کے دو دوست پیش ہوئے۔ ان کے متعلق ذکر ہوا کہ مخالفین نے ان کو بہت ہی دُکھ دیا ہے۔ فرمایا :
صبر کرنا چاہیے۔ ایسے موقعہ پر صبر کرنے سے اﷲ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔
بدر جلد ۱ نمبر۱۶ صفحہ ۳ مورخہ ۲۰؍جولائی ۱۹۰۵ء ؎ٰ
حضرت خلیفۃ اﷲ علیہ السلام کی پُر دَرد بات
تمام ہم و غم دین کے لیے ہونا چاہیے
پرسوں ۲؎ میں نے ایک دوست کی نسبت عرض کیاکہ بعض ابتلائوں کا اندیشہ زیادہ ہو گیا ہے اور غم و ہم کے اُن کے دل پر غالب آنے کا خوف ہے۔ فرمایا :
میں نے دعا تو بہت کی ہے اور التزاماً لیکن مجھے بھی فکر رہتی ہے کہ ہر شخص دنیا کے غم و ہم میں گرفتار