۲۰؍جولائی ۱۹۰۵ء؁ ایک خواب کی تعبیر مولوی عبد الکریم صاحب نے اپنا ایک خواب عرض کیا کہ میرے کپڑے کو ایسا معلوم ہوا کہ گویا آگ لگ گئی ہے پانی ڈالا تو کپڑا بالکل صاف نکل آیا گویا ا س کو کچھ آنچ نہ پہنچی تھی۔ فقط۔ مولوی صاحب کے والد صاحب بیمار ہیں۔ حضرت نے فرمایا : ان کی صحت کی طرف اشارہ ہے؎ٰ ۲۲؍جولائی ۱۹۰۵ء؁ دعا کی حدود خانصاحب ذوالفقار علی خاں کی زوجہ کلاں کی وفات کا ذکر آیا۔ عاجز ؎ٰکو حکم دیا کہ ہماری طرف سے اُن کو تعزیت نامہ لکھ دیںکہ۔ صبر کریں موت فوت کا سلسلہ دنیا میں لگا ہوا ہے۔ صبر کے ساتھ اجر ہے۔ فرمایا: قبولیت دعا حق ہے لیکن دعا نے کبھی سلسلہ موت فوت کو بند نہیں کر دیا۔ تمام انبیاء کے زمانہ میں یہی حال ہوتا رہا ہے۔ وہ لوگ برے نادان ہیں جو اپنے ایمان کو اس شرط سے مشروط کرتے ہیں کہ ہماری دعا قبول ہو اور ہماری خواہش پوری ہو۔ ایسے لوگوں کے متعلق قرآن شریف میں آیا ہے۔ ومن الناس من یعبد اﷲ علی حرف فان اصابہ خیر اطمان بہ۔ وان اصا بتہ فتنۃ ا نقلب علی وخھہ خسرالدنیا والاخرۃ ذالک ھوالخسران المبین (الحج : ۱۲) بعض لوگ ایسے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی عبادت ایک کنارے پر کھڑے ہو کر کرتے ہیں۔ اگر اس کو بھلائی پہنچے تو اس کو اطمینان ہو جاتا ہے اور اگر کوئی فتنہ پہنچے تو منہ پھیر لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کو دنیا اور آخرت کا نقصان ہے۔ اور یہ نقصان ظاہر ہے۔