پر لعنت کی مار پڑتی ہے۔ جھوٹا فلسفہ اور طبعی علوم ہمیشہ سے چلے آتے ہیں مگر ان سے خدا نہیںپہچا جا سکتا۔ خدا تعالیٰ کی صفت خلق ایک آریہ مخاطب تھا ۔ فرمایا : خدا سب کا خالق ہے اور ہمیشہ سے خالق ہے۔ قرآن شریف سے بھی ثابت ہوتا ہے اور اسلام کا یہی مذہب ہے کہ ’’ لم یزل خالقا‘‘ مگر اس کا خلق ہمیشہ ایک قسم کا نہیں کہ ہم کہیں کہ انسان ہی پیدا ہوتے رہے یا بندر ہی پیدا ہوتے رہے بلکہ وہ ہمیشہ سے گوناگوں خلقت کا خالق ہے جس کا حد ہم نہیں پا سکتے۔ جس طرح خالق ازلی ہے اس کی پیدائش بھی ازلی ہے۔ آدم سے پہلے بھی مخلوق تھی آریہ نے سوال کیا کہ اسلام کے مطابق تو دنیا آدم سے شروع ہوئی یعنی چھ ہزار سال سے۔ حضرت نے فرمایا : یہ غلط ہے۔ اسلام اور قرآن شریف کا یہ مذہب نہیںکہ دنیا چھ ہزار سال سے ہے یہ تو عیسائی لوگوں کا عقیدہ ہے، مگر قرآن شریف میں تو خدا تعالیٰ نے آدم کے متعلق فرمایا ہے انی جا عل فی الارض خلیفۃ (البقرۃ : ۳۱) اب ظاہر ہے کہ خلیفہ اس کو کہتے ہیں کہ جو کسی کے پیچھے آوے اور اس کا جانشین ہو جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آدم سے پہلے بھی مخلوق تھی۔ آدم اس کا قائم مقام اور جانشین ہوا۔ آریوں کے عقائد کا رد میں یہ نہیں قبول کر سکتا کہ انسان بار بار کتے۔ بلے اور سؤر بنتا رہتا ہے۔ نہ میں یہ قبول کر سکتا ہوں کہ کوئی انسان ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہے گا۔ خدا رحیم و کریم ہے۔ میں اس خدا کو جانتا ہوں کہ جب انسان اس کے سامنے پاک دل کے ساتھ سچی صلح کے واسطے آتا ہے تو وہ اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اس پر رحم کرتا ہے۔ جو پوری قربانی دیتا ہے اور اپنی زندگی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ خدا ضرور اُسے قبول کر لیتا ہے۔ بندر اور سوآر بننے کا عقیدہ تو انسان کی کمر توڑ دیتا ہے۔ مسلمان ہونے کے یہ معنے ہیں کہ انسنا اپنی تمام عقلی اور اعتقادی غلطیوں سے دست بردار ہو جائے۔