اور محنت درکار ہے۔ ۳؎ اصل دعا کرنا ایک قسم کی موت کا اختیار کرنا ہوتا ہے۔
الحکم جلد ۹ نمبر ۲۴ صفحہ ۱۰؍جولائی ۱۹۰۵ء
۴؍جولائی ۱۹۰۵ء
اس زمانہ کا سب سے بڑا فتنہ
عاجز ؎ٰ نے ایک اخبار ولایت کا پیش کیا جس میں عیسویت پر کچھ لے دے کی ہوئی تھی۔ فرمایا :
عیسائیت تو خود بخود مٹتی جاتی ہے لیکن بڑا فتنہ اس زمانہ کا دہریت والی سائنس ہے خدانخواستہ اگر اس کو دیر پا مہلت مل گئی تو پھر ساری دنیا دہریہ ہونے کو آمادہ ہو جائے گی۔ سائنس کا اور مذہب کا اس وقت مقابلہ ہے۔ عیسویت ایک کمزور مذہب ہے اس واسطے سائنس کے آگے فوراً گر گیا ہے لیکن اسلام طاقتور ہے۔ یہ اس پر غالب آئیگا۔ انشاء اﷲ تعالیٰ۔
بدر جلد ۱ نمبر ۱۴ صفحہ ۲ مورخہ ۶؍جولائی ۱۹۰۵ء
۶؍جولائی ۱۹۰۵ء
طبعی علوم سے خدا پہچانا نہیں جاسکتا
فرمایا:
جب خدا کے ساتھ انسان اپنا معاملہ درست کرتا ہے تو خدا اس پر نعمت وارد کرتا ہے ورنہ جھوٹے