سب سے زیادہ اس بات کا خوف ہے۔ ہم نہ تلوار سے جیت سکتے ہیں اور نہ کسی اورقوت سے۔ ہمارا ہتھیار صرف دع ہے اور دلوں ی پاکیزگی ۔ اگر ہم اپنے آپ کو درست نہ کریں گے تو ہم سب سے پہلے ہلاک ہوں گے۔ اگر خدا نہ چاہے تو جاپان میں کیا رکھا ہے؟ ہاں زبان سیکھنے میں کوئی حرج نہیں، داشتہ آید بکار۔ اگر ہمیں خدا کا حکم ہو تو بغیر زبان سیکھنے کے آج ہی چل پڑیں۔ ہم ایسے معاملات میں کسی کے مشورہ پر نہیںچل سکتے۔ خدا کے منشاء کے قدم بقدم چلنا ہمارا کام ہے۔؎ٰ بدرؔ جلد ۱ نمبر ۱۳ صفحہ ۲ مورخہ ۲۹؍جون ۱۹۰۵ء؁ دعا کی طاقت یکم جولائی ۱۹۰۵ء؁ کچھ بیماروں کا ذکر تھا۔ فرمایا : میرا مذہب بیماریوں کے دعا کے ذریعہ سے شفا کے متعلق ایسا ہے کہ جتنا میرے دل میں ہے اتنا میں ظاہر نہیں کر سکتا۔ طبیب ایک حدتک چل کر ٹھہر جاتا ہے اور مایوس ہو جاتا ہے مگر اس کے آگے خدا دعا کے ذریعہ سے راہ کھول دیتا ہے۔ ۲؎ خدا شناسی اور خدا پر توکل اسی کا نام ہے کہ جو حدیں لوگوں نے مقرر کی ہوئی ہیں اُن سے آگے بڑھ کر رجا پیدا ہو ورنہ اس میں تو آدمی زندہ ہی مرجاتا ہے۔ اس جگہ سے اﷲ تعالیٰ کی شناخت شروع ہو جاتی ہے۔ مجھے ایسے معاملات میں مولوی رومیؔ کا یہ شعر بہت پسند آیا ہے ؎ اے کہ خواندی حکمت یونانیاں حکمت ایمانیاں را ہم بخواں عام لوگوں کے نزدیک جب کوئی معاملہ یاس کی حالت تک پہنچ جاتا ہے۔ تب خدا تعالیٰ اندر ہی اندر تصرفات شروع کرتا ہے اور معاملہ صاف ہو جاتا ہے۔ دعا کے واسطے بہت لوگوں کے خطوط آتے ہیں۔ ہر ایک کے لیے جو دعا کے واسطے لکھاتا ہے دعا کرتا ہوں۔ لیکن اکثر لوگ دعا کی فلاسفی سے ناواقف ہیں اور نہیں جانتے کہ دعا کے ٹھیک ٹھکانہ پھر پہنچنے کے واسطے کس قدر توجہ