ایک مدرسہ قائم کیا ہے اور جاپان میں کئی آدمی بھیجنے ہیں۔ اگر مناسب ہو تو سلسلۂ حقہ کی اس ملک میں اشاعت کے واسطے تجویز کی جائے۔ اس پر حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا : ہر نبی اور رسول کا آخری زمانہ اس کے سلسلہ کی نصرت کا وقت ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانۂ نبوت کا پہلا بہت سا حصہ مصائب اور تکالیف میں گذرا تھا اور فتوحات اور نصرت کا زمانہ آپ کی عمر کا آخری حصہ ہی تھا۔ہم بھی اپنی عمر کا بہت سا حصہ طے کر چکے ہیں۔ اور زندگی کا کوئی اعتبر نہیں۔ اب خدا کے وعدوں کے پورا ہونے کے دن ہیں۔ ہماری حالت وہ ہے کہ عدالت میں مدت سے کسی کا مقدمہ پیش ہے اور اب فیصلہ کے دن قریب ہیں۔ہمیں مناسب نہیں کہ اور طرف توجہ کر کے اس فیصلہ میں گڑ بڑ ڈال دیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اب اس فیصلہ کو دیکھ لیں۔ اس مُلک میں جو جماعت تیار ہوئی ہے ابھی تک وہ بھی بہت کمزور ہے۔ بعص ذرا سے ابتلا سے ڈر جاتے ہیں اور لوگوں کے سامنے انکار کر دیتے ہیں اور پھر بعد میں ہم کو خط لکھتے ہیںک ہ ہمارا انکار دلی نہیں ہے۔ گو ایسے لوگ اس آیت کی ذیل میں آجاتے ہیں۔ من کفر بال من بعد ایمانہ الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان (النحل : ۱۰۷) تا ہم جن کے دلوں میں حلاوتِ ایمانی پورے طور سے بیٹھ جائے وہ ایسا فعل نہیں کر سکتے۔ فیالحال موجودہ معاملات میں ہی توجہ اور دعا کی بہت ضرورت ہے اور ہم خدا پر بھروسا رکھتے ہیں کہ اب معاملہ دور ہو جانے والا نہیں۔ ایسے معاملات میں آریوں کے ساتھ ہماری کوئی مناسبت نہیں ہو سکتی۔ وہ قوم بڑھانا چاہتے ہیں اور ہم دنیا میں تقویٰ اور نیکی کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم آریوں کی نقل کرنا چاہیں تو ان کی پیروی ہمارے لیے منحوس ہوگی۔ اور ہم کو وحی کرنے والے گویا وہی ٹھہریں گے۔ اگر خدا تعالیٰ جاپانی قوم میں کسی تحریک کی ضرورت سمجھے گا تو خود ہم کو اطلاع دے گا۔ عام کے واسطے امور پیش آمدہ میں استخارہ ہوتا ہے اور ہمارے واسطے اتخارہ نہیں۔ جبتک پہلے سے خدا تعالیٰ کا منشاء نہ ہو ہم کسی امر کی طرف توجہ کر ہی نہیں سکتے۔ ہمارا دارومدار خدا تعالیٰ کے حکم پر ہے۔ انسان کی اپنی کی ہوئی بات میں اکثر ناکامی ہی حاصل ہوتی ہے۔ اگر خدا چاہے گا تو اس ملک میں طالب اسلام پیدا کردے گا جو خود ہماری طرف توجہ کرے گا۔ اب آخری زمانہ ہے۔ ہم فیصلہ سننے کے انتظار میں ہیں۔ ہاں سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ میں اپنی جماعت کے سب لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ دن بہت نازک ہیں۔ خدا سے ہر اساں و ترساں رہو۔ ایسا نہ ہو کہ ا برباد ہو اجئے۔ اگر تم دوسرے لوگوں کی طرح بنوگے تو خدا تم میں او ان میں کچھ فرق نہ کرے گا۔ اور اگر تم خو د اپنے اندر نمایاں فرق پیدا نہ کروگے تو پھر خدا بھی تمہارے لیے کچھ فرق نہ رکھے گا۔ عمدہ انسان وہ ہے جو خدا کی مرضی کے مطابک چلے۔ ایسا انسان ایک بھی ہو تو اس کی خاطر ضرورت پڑنے پر خدا ساری دنیا کو بھی غرق کر دیتا ہے، لیکن اگر ظاہر کچھ اور ہو اور باطن کچھ اور تو ایسا انسان منافق ہے اور منافق کافر سے بدتر ہے۔ سب سے پہلے دلوں کی تطہیر کرو۔ مجھے