۱۴؍جون ۱۹۰۵ء؁ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں سب کچھ ہے ایک شخص بیمار ملنے کے واسطے آیا۔ اس کے معالجہ کا ذکر تھا۔ فرمایا : خدا تعالیٰ کے نزدیک کوئی بات انہونی نہیں ہے۔ میر صاحب کا لڑکا محمد اسحاق سخت بیار ہوا۔ ڈاکٹر نے مایوسی ظاہر کی ہم نے دعا کی۔ الہام ہوا : سلام قولا من رب رحیم پر خدا کا رحم ہے کوئی بھی اس سے ڈر نہیں۔دنیا سرائے فانی ہے اور معمولی موت فوت لگی ہوئی ہے۔ خدا اس کی پروا نہیں کرتا، لیکن جہاں کوئی پیچ پڑ جاتا ہے اور دین پر اعتراض وارد ہوتا ہے۔ وہاں تو خدا تعالیٰ اپنا قانون بھی بدل دیتا ہے اور معجزہ نمائی کرتا ہے۔ یوں تو مرنا کوئی حرج یادُکھ کی بات نہیں جن کو ہم کہتے ہیں کہ مر گیا ہے وہ دوسرے جہان میں چلا جاتا ہے۔ اور وہ جہان نیک آدمیوں کے لیے بہت عمدہ ہے مگر جہاں کوئی اعتراض دین کے لیے مزاحم ہوتا ہے وہاں خدا تعالیٰ عجائبات ظاہر کرتا ہے۔ دنیوی حکام بھی ایسا کرتے ہیں کہ کسی اہم ملکی ضرورت کے وقت قانون کی بھی پروا نہیں کرتے۔ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ اس نے دو گھر بنائے ہیں۔ اِدھے سے اُٹھا کر اُدھر آباد کر دیتا ہے۔ ھوالشافی طب اور معالجات کا تذکرہ تھا۔ فرمایا: یہ سب ظنی باتیں ہیں۔ علاج وہی ہے جو خدا تعالیٰ اندر ہی اندر کر دیتا ہے جو ڈاکٹر کہتا ہے کہ یہ علاج یقینی ہے وہ اپنے مرتبہ اور حیثیت سے آگے بڑھ کر قدم رکھتا ہے۔ بقراطؔ نے لکھا ہے کہ میرے پاس ایک دفعہ ایک بیمار آیا۔ میں نے بعد دیکھنے حالات کے حکم لگایا کہ یہ ایک ہفتہ کے بعد مرجائے گا۔ تیس سال کے بعد میں اس کو زندہ پایا۔ بعض ادویہ کو بعض طبئع کے ساتھ منسبت ہوتی ہے۔ اسی بیماری میں ایک کے واسطے ایک دوا مفید پڑتی ہے اور دوسرے کے واسطے ضرر رساں ہوتی ہے۔ جب بُرے دن ہوں تو مرض سمجھ میں نہیں آتا۔ اور اگر مرض سمجھ میں آجائے تو پھر علاج نہیں سوجھتا۔ اسی واسطے مسلمان جب ان علوم کے وارث ہوئے تو اُنہوں نے ہر امر میں ایک بات برھائی۔ بنض دیکھنے کے وقت سبحا نک لا علم لنا الا ما علمتنا (البقرۃ : ۳۳) کہنا شروع