۱۳؍جون ۱۹۰۵ء؁ صالح اولاد کی خواہش کرنا چاہیے قاضی غلام حسین صاحب وٹرنری اسسٹنٹ حصار حاضر خدمت ہوئے۔ چند روز ہوئے قاضی صاحب کا لڑکا چنر روز کی عم پاکر فوت ہو چکا ہے۔ اس پر فرمایا : جو بچہ مر جاتا ہے وہ فرط ہے۔ انسان کو عاقبت کے لیے بھی کچھ ذخیرہ چاہیے۔ میں لوگوں کی خواہش اولاد پر تعجب کیا کرتا ہوں۔ کون جانتا ہے اولاد کیسی ہوگی۔ اگر صالح ہو تو انسان کی دنیا میں کچھ فائدہ دے سکتی ہے اور پھر مستجاب الدعوات ہو تو عاقبت میں بی فائدہ دے سکتی ہے۔ اکثر لوگ تو سوچتے ہی نہیں کہ اُن کو اولاد کی خواہش کیوں ہے اور جو سوچتے ہیں وہ اپنی خواہش کو یہانتک محدو د رکھتے ہیں کہ ہمارے مال و دولت کا وارث ہو اور دنیا میں بڑا آدمی بن جائے۔ اولاد کی خواہش صرف اس نیت سے درست ہو سکتی ہے کہ کوئی ولد صالح پیدا ہو جو بند گانِ خدا میں سے ہو لیکن جو لوگ آپ ہی دنیا میں غرق ہوں وہ ایسی نیت کہاں سے پیدا کر سکتے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ خدا فضل مانگتا رہے تو اﷲ تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔ نیت صحیح پیدا کرنی چاہیے؛ ورنہ اولاد ہی عبث ہے۔ دنیا میں ایک بے معنی رسم چلی آتی ہے کہ لوگ اولاد مانگتے ہیں اور پھر اولاد سے دُکھ اُٹھاتے ہیں۔ دیکھو حضرت نوحؑ کا لڑکا تھا۔ کس کام آیا۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان جو اس قدر مرادیں مد نظر رکھتا ہے اگر اس کی حالت اﷲ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہو تو خدا اس کی مرادوں و خود پوری کر دیتا ہے اور جو کام مرضیٔ الٰہی کے مطابق نہ ہوں ان میں انسان کو چاہیے کہ خود خد اکے ساتھ موافقت کرے۔ شافیٔ مطلق ایک بیمار اور اس کے علاج کا ذکر تھا۔ فرمایا : ہر ایک مرض اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مسلط ہوتا ہے۔ جب اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے۔ مرض ہٹ جاتا ہے۔ ایمانداری ایک خمد کے متعلق فنڈ کا تذکرہ تھا۔ فرمایا : خدا تعالیٰ سمیع و علیم ہے۔ اس سے دعا کرتے رہو۔ خدا تعالیٰ برکت دیگا۔ اس رمز کا سمجھنا ایمانداری ہے۔؎ٰ