فرمایا:
ایک اور اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ
عفت الدیار محلھا ومقامھا
ایک کافر کا شعر ہے جو آپ کو الہام ہوا۔ تو پھر یہ معجزہ کس طرح ہوا؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول ؔتو خود قرآنشریف کی آیات مثلاً
فتبارک اﷲ احسن اخالقین (المومنون : ۱۵)
قبل وحی قرآن کے دوسروں کے منہ پر یہ الفاظ جاری تھے؛ چنانچہ یہی بات اُن بدبختوں کے واسطے موجب ارتداد ہوئی۔ دومؔ یہ الفاظ جس شاعر کے ہیں وہ کافر نہ تھا بلکہ مسلمان ہو گیا تھا۔ سومؔ اصل بات یہ ہے کہ یہ الفاظ جبتک ایک شاعر کے شعر کے طور پر تھے تب تک اُن میں کوئی معجزہ نہ تھا۔ لیکن جب خدا نے اپنی وحی کے لیے اُن کو استعمال فرمایا تب یہ معجزہ بن گئے۔ پہلے تو یہ ایک گذشتہ قصہ تھا مگر اب کلام الٰہی اور ایک پیشگوئی اور معجزہ بن گیا۔
فرمایا:
کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم میں میں کچھ اشعار لکھ رہا تھا اور گھر سے قریب ہی سوئے ہوئے تھے کہ اچانک وہ اُٹھے اور ان کی زبان پریہ الفاظ جاری تھے ؎
صوفیا سب ہیچ ہے تیری طرح تیری تراہ
ہم نے اس الاہمی مصرعہ کو بھی ان اشعار کے درمیان درج کر دیا ہے۔
تثلیث
کسی نے ذکر کای کہ عیسائیوں نے تثلیث پر چند نئے رسالے لکھے ہیں اور اب تثلیث کا نام ثالوث رکھا ہے۔ فرمایا :
یہ زمانہ ہی ان کے ثالوث کا فیصلہ کر جائے گا۔
تبرکات
کچھ تبرکات کا ذکر تھا۔ فرمایا :
تبرکات کا ہوان مسلمانوں کے آثار میں پایا جاتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے اپنے سر کے بال ایک شخص کو دیئے تھے۔ ہمیں الہام ہوا ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔؎ٰ