سوزوگداز پیدا ہوتا ہے۔ اس واسطے وہ افضل ہے۔ روزے سے کشوف پیدا ہوتے ہیں مگر یہ کیفیت بعض دفعہ جو گیوں میں بھی پیدا ہو سکتی ہے لیکن روحاسنی گدازش جو دعائوں سے پیدا ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شامل نہیں۔؎ٰ
۱۱؍جون ۱۹۰۵ء
زلزلہ کی پیشگوئی کے متعلق بعض اعتراضات کے جوابات
فرمایا:
ایک شخص نے اعتراض کیا ہے کہ زلزلے کے واسطے جب تک تاریخ نہ ہو تب تک یہ پیشگوئی کچھ نہیں۔
فرمایا :
اس کا یہ جواب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اس کے متعلق فرمایا ہے کہ بغتۃ یعنی یہ واقعہ اچانک ہونیوالا ہے جبکہ کسی کو بھی خبر نہ ہوگی۔ اس واسطے اب تاریخ کا سوال بے فائدہ ہے اﷲ تعالیٰ اگر تاریخ بتلادے تو یہ امر پہلے الہام کے مخالف ہوگا۔
علاوہ اس کے خدا چاہتا ہے کہ نیکوں کو بچئے اور بدوں کو ہلاک کرے اگر وقت اور تاریخ بتلائی جائے تو ہر ایک شریر سے شریر اپنے واسطے بچائو کا سامن کر سکتا ہے۔ اگر وقت کے نہ بتلانے سے پیشگوئی قابل اعتراض ہو جاتی ہے، تو پھر تو قرآن شریف کی پیشگوئیوں کا بھی یہی حال ہے۔ وہاں بھی اس قسم کے لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ
متی ھذا الوعد (یونس : ۴۹)
یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ ہمیں وقت اور تاریخ بتلائو۔ مگر بت یہ ہے کہ وعید کی پیشگوئیوں میں تعین نہیں ہوتا؛ ورنہ کافر بھی بھاگ کر بچ جائے۔
فرمایا:
ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ حوادث اور زلزلے تو آیا ہی کرتے ہیں پھر یہ پیشگوئی کیا ہوئی۔ قیامت تک زلزلہ اور حادثہ کوئی نہ کوئی آئے ہی گا۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس پیشگوئی میں صریح الفاظ ہیں کہ یہ امر ہماری تائید میں اور ہماری زندگی میں ہونے والا ہے جس کو اس زمانہ کے وگ دیکھیں گے اور پھر تخصیص یہ ہے کہ یہ حادثہ ایسا سخت ہوگا جس کو نہ کسی نے پہلے دیکھا نہ سنا۔