کے معاملات بھی مشکل ہوتے ہیں۔ الخیر فی ماوقع۔
انشاء اﷲ کہنے کا مقصد
فرمایا:
لفظ انشاء اﷲ تعالیٰ کہنے میں انسنا اپنی کمزوری کا اظہار کرتا ہیکہ میں تو چاہتا ہوں کہ یہ کام کروں۔ لیکن خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو امید ہے کہ کر سکوں گا۔
ایمان کی جر نماز ہے
فرمایا:
جس طرح بہت دھوپ کے ساتھ آسمان پر بال جمع ہو جاتے ہیں ارو بارش کا وقت آجاتا ہے۔ ایسا ہی انسان کی دعائیں ایک حرارت ایمانی پیدا کرتی ہیں اور پھر کام بن جاتا ہے۔ نماز وہ ہے جس میں سوزش اور گدازش کے ساتھ اور آداب کے ساتھ انسان خدا کے حضور میں کھڑا ہوتا ہے۔ جب انسان بندہ ہو کر لا پرواہی کرتا ہے تو خدا کی ذات بھی غنی ہے۔ ہر ایک اُمت اس وقت تک قائم رہتی ہے جبتک اس میں توجہ الی اﷲ قائم رہتی ہے۔ ایمان کی جڑ بھی نماز ہے۔ بعض بیوقوف کہتے ہیں کہ خدا کو ہماری نمازوں کی کیا حاجت ہے۔ اے نادانو۱ خدا کو حاجب نہیں مگر تم کو تو حاجت ہے کہ خدا تعالیٰ تمہاری طرف توجہ کرے۔ خدا کی توجہ سے بگڑے ہوئے کام سب درست ہو جاتے ہیں۔ نماز ہزاروں خطائوں کو دور کر دیتی ہے اور ذریعۂ حصولِ قرب الٰہی ہے۔
مسیح موعود کے دو بازو
فرمایا:
یہ اخبار (الحکم و بدر) ہمارے دو بازو ہیں۔ الہامات کو فوراً ملکوں میں شائع کرتے ہیں اور گواہ بنتے ہیں۔
روزہ اور نماز
فرمایا:
روزہ اور نماز ہر دو عبادتیں ہیں۔ روزے کا زور جسم پر ہے اور نماز کا زور روح پر ہے۔ نماز سے ایک