نہیں۔ صحابہؓ باوجود قلیل ہونے کے جدھر جاتے فتح پاتے صحابہؓ ایسے تھے جیسے کسی برتن کو دھوکر بالکل صاف ستھرا کر دیا جاتا ہے اور اس میں کسی قسم کی آلائش کا شائبہ نہیں رہتا۔ ان کی ایسی محنت اور اخلاص تھا تو خدا تعالیٰ نے پھر بدلہ بھی ایسا دیا۔ حضرت ابو بکرؓ کو آنحضرتؐ کا خلیفہ بنایا۔ شیعوں کی غلطی اس جگہ شیعوں نے بڑی غلطی کھائی ہے کہ خلافت کا حق حصرت علیؓ کو تھا۔ بدقسمت نہیں دیکھتے کہ خدا تعالیٰ نے کیا فیصلہ کیا جو وقت وعدوں کے پورا ہوین کا تھا۔ اس وقت خدا نے ایک منافق اورا ہل بیت کے دشمن کو کیوں گدی پر بٹھا دیا۔ میں جانتا ہوں کہ اس قوم نے بھی عیسائیوں کی طرح ایک غلو کیا ہے اور اس غلو کا باعث اصلی نامرادی ہے جو ابتدا میں حاصل ہوئی۔ جو لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ یسوع کو ظاہری بادشہت حاصل ہوگی ان کو جب اس معاملہ میں نکامی حاصل ہوئی تو انہوں نے یسوع کی صفت میں غلو کر کے یسوع کو خدا ہی بنا دیا ایسا ہی قومِ شیعہ بھی حضرت علیؓ کو وہ درجہ دیتے ہیں جو خدا نے نہ چاہا کہ اُن کو دے۔ خدا تعالیٰ کا معاملہ ہر ایک کے ساتھ اس کے دل کی حالت کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر اُن کے پاس نور ایمان ہوتا تو ایسی بات نہ بلتے۔ کیا اس وقت خدا کمزور تھ اور وہ بدلہ لے نہ سکتا تھا یا خدا پالیسی باز تھا۔ حضرت ابو بکرؓ کو طاقتور دیکھ کر خاموش رہا۔؎ٰ ۳؍جون ۱۹۰۵ء؁ بچوں کی وفات پر صبر کی تلقین عاجز ۲؎ راقم کی لڑکی سعیدہ بیگم بعمر تین سال آٹھ ماہ بعارضہ امّ اصل۳بیان فوت ہوئی۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے بمعہ جماعت باغ میں جنازہ پڑھا اور مجھے مخاطب کرکے فرمایا : اولاد جو پہلے مرتی ہے وہ فرط ہوتی ہے۔ حضرت عائشہؓ نے رسول کریم ﷺ سے عرض کی تھی کہ جس کی کوئی اولاد نہیں مرتی وہ کیا کرے گا؟ فرمایا میں اپنی اُمت کا فرط ہوں۔ فرمایا : آپ صبر کریں۔ اﷲ تعالیٰ چاہے گا تو اس کے عوض میں لڑکا دے گا۔ صبر تو خواہ مخواہ ہی کرنا پڑتا ہے۔ لڑکیوں