سکتی۔ خدا تعالیٰ نے اسی کی طرف قرآن شریف میں اشارہ کیا ہے کہ
ان اﷲ یامر باعدل وازحسان و ایتای ذی القربی (النحل : ۹۱)
اخلاق کی انتہاء
ادنیٰ درجہ عدل کا ہوتا ہے۔ جتنا لے اتنا دے۔ اس سے ترقی کرے تو احسان کا درجہ ہے جتنا لے وہ بھی دے اور اس سے بڑھ کر بھی دے۔ پھر اس سے بڑھ کر ایتاء ذی القربیٰ کا درجہ ہے یعنی دوسروں کے ساتھ اس طرح نیکی کرے جس طرح ماں بچہ کے ساتھ بغیر نیت کسی معاوضہ کے طبعی طور پر محبت کرتی ہے۔ قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل اﷲ ترقی کر کے ایسی محبت کو حاصل کر سکتے ہیں۔ انسان کا ظرف چھوٹا نہیں ۔ خدا کے فضل سے یہ باتیں حاصل ہو جاتی ہیں۔ بلکہ یہ وسعت اخلاق کے لوازمات میں سے ہے۔ میں تو قائل ہوں کہ اہل اﷲ یہانتک ترقی کرتے ہیں کہ مادری محبت کے اندازہ سے بھی بڑھ کر انسان کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔
ایک بڑھیا کا ذکر ہے کہ حضرت اب بکرؓ کی وفات کے روز بغیر اس کے کہ اس کو کسی نے خبر دی ہو خود بخود کہنے لگی کہ آج ابو بکرؓ مر گیا ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ تجھ کو کس طرح سے معلوم ہوا۔ اس نے کہا کہ ہر روز مجھ کو آپ حلوہ کھلایا کرتے تھے اور وہ وعدہ میں تخلّف کرنیوالے ہرگز نہ تھے چونکہ آج وہ حلوہ کھلانے نہیں آئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ فوت ہو گئے ہیں ؛ ورنہ وہ ضرور مجھے حلوہ کھلانے آج بھی آتے۔ دیکھو۔ اخلاقی حالت کہں تک وسعت کر سکتی ہے۔ یہ بھی ایک معجزہ ہے۔ ان اخلاق پر دوسرے لوگ قادر نہیں ہو سکتے۔ پیغمبر خدا ﷺ کے پاس ایک مجرم پکڑا ہوا آیا تو وہ آپ ہی رعب سے کانپتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ تو کیوں اتنا ڈرتا ہے میں تو ایک بڑھیا کا بیٹا ہوں ۔معمولی انسانوں کے یہ اخلاق نہیں ہوتے۔ عرب کی قوم کئی پشتوںتک کینہ رکھنے والی تھی۔ حضرت نبی کریم ﷺ نے جب اُن پر غلبہ پایا تو باوجود اس قدر دُکھوں کے جو اُن سے اٹھئے تھے سب کو معاف کر دیا۔ دنیوی حکومت رحم نہیں کر سکتی۔ انگریزوں نیباغیوں کو کس طرح پھانسی دیا اور قتل کیا تھا مگر آنحضرت ﷺ نے اپنے سب باغیوں کو یکدفعہ معاف کر دیا۔ کسی نبی کو ایسی پوری کامیابی نہیں ہوئی جیسی کہ آنحضرت ﷺ کو ہوئی۔ حضرت موسیٰ ؑ اپنے وعدہ کی زمین تک نہ پہنچ سکے اور راستہ میں ہی فوت ہو گئے اور ان کے ساتھیوں نے کہا کہ اے موسیی تو اور تیرا خدا مل کر مخالفوں سے جاکر لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ مگر آنحضرت ﷺ کے اصحاب نے کہا کہ ہم تیرے ساتھ چلیں گے؛ اگرچہ سمندر میں گریں اور قتل کئے جائیں۔
قاعدہ ہے کہ نبی کا پر تو اُمت پر بھی پڑتا ہے۔ جب اُستاد کامل ہوتا ہے ایسے ہی شاگرد بھی بنتے ہیں۔ جیسے حصرت نبی کریم ﷺ کی سجاعت، افعال و اعمال اور کامیابی کی نظیر نہیں ویسے ہی صحابہؓ کی بھی نظیر