کے دو پلڑے ہوتے ہیں مثل جھیوروں کی بہنگی کے ۔ میں ایک ڈولی میں بیٹھا ہوا ہوں۔ پھر کسی نے میاں شریف احمد کو اس میں بیٹھا دیا اور اس کو چکر دینا شروع کیا۔ اتنے میں گھڑی گر گئی اور اس جگہ قریب ہی گری ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس کو تلاش کرو۔ ایسا نہ ہو کہ محمد حسین نالش کردے۔ فرمایا کہ : خیال گذرتا ہے کہ شاید گھڑی سے مراد وہ ساعت ہے جو زلزلہ کی ساعت ہے جو معلوم نہیں۔ واﷲ اعلم۔ اور وہ رحمت کی ساعت ہے یعنی یہ ساعت ہمارے واسطے رحمت الٰہی کا موجب ہوگی۔ ۲؎ بلاتاریخ ۳؎ القول الطیب خدمت والدین حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی والدہ یہان ئئی ہوئی ہیں۔ اُنہوں نے اپنی والدہ کی پیری اور ضعف کا اور اُن کی خدمت کا جو وہ کرتے ہیں ذکر کیا۔ حضرت نے فرمایا :۔ والدین کی خدمت ایک بڑا بھاری عمل ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ دو آدمی بڑے بدقسمت ہیں۔ ایک وہ جس نے رمضان پایا اور رمضن گذر گیا پر اس کے گناہ نہ بخشے گئے اور دوسرا وہ جس نے والدین کو پایا اور والدین گذر گئے اور کے گناہ بخشے نہ گئے۔ والدین کے سایہ میں جب بچہ ہوتا ہے تو اس کے تمام ہم و غم والدین اُٹھاتے ہیں۔ جب انسان خود دنیوی امور میں پڑتا ہے تب انسان کو والدین کی قدر معلوم ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں والدہ کو مقدم رکھا ہے، کیونکہ والدہ بچہ کے واسطے بہت دُکھ اُٹھاتی ہے۔ کیسی ہی متعدی بیماری بچہ کو ہو۔ چیچک ہو، ہیضہ ہو، طاعون ہو۔ ماں اس کو چھوڑ نہیں سکتی۔ ہماری لڑکی کو ایک دفعہ ہیضہ ہو گیا تھا ہمارے گھر سے اس کی تمام قے وغیرہ اپنے ہاتھ پر لیتی تھیں۔ماں سب تکالیف میں بچہ کی شریک ہوتی ہے۔ یہ طبعی محبت ہے۔ جس کے ساتھ کوئی دوسری محبت مقابلہ نہیں کر