کی ایک مثال نہیں بلکہ کئی ایک مثالیں ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ان نشانات کو دیکھ کر بھی لوگ ابھی گمراہ ہیں۔ سو بات یہ ہے کہ دنیا میں ہمیشہ سے دو گروہ چلے آئے ہیں۔ایک سعید دوسرا شقی۔ابو جہل نے ہزاروں نشان دیکھے لیکن وہ کافر ہی رہا۔سو اس صورت میں مومن کے لیے ضرور ہے کہ وہ دعا میں لگ جاوے۔ صرف بیعت پر قناعت نہ کریں آپ نے جو آج مجھ سے بیعت کی ہے۔یہ تخمریزی کی طرح ہے۔چاہئے کہ آپ اکثر مجھ سے ملاقات کرین اور اس تعلق کو مضبوط کریں جو ٔء قائم ہوا ہے۔جس شاخ کا تعلق درخت سے نہیں رہتا وہ آخر خشک ہو کر گر جاتی ہے۔جو شخص زندہ ایمان رکھتا ہے وہ دنیا کی پروا نہیں رکھتا۔دنیا ہر طرح مل جاتی ہے۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والا ہی مبارک ہے لیکن جو دنیا کو دین پر مقدم رکھتا ہے وہ ایک مردار کی طرح ہے جو کبیھ سچی نصرت کا منہ نہیں دیکھتا ۔یہ بیعت اس وقت کام آسکتی ہے۔جب دین کو مقدم کر لیا جاوے اور ا س میں ترقی کرنے کی کوشش ہو۔بیعت ایک بیج ہے جو آج بویا گیا۔اب اگر کوئی کسان صرف زمین میں تخمریزی پر ہی قناعت کرے اور پھل حاصل کرنے کے جو جو فرائض ہیں ان میں سے کوئی ادا نہ کرے۔نہ زمین کو درست کرے اور نہ آبپاشی کرے اور نہ موقعہ بہ موقعہ مناسب کھاد زمین میں ڈالے نہ کافی حفاظت کرے تو کیا وہ کسان کسی پھل کی امید کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔اس کا کھیت بالضرور تباہ اور خراب ہو گا۔کھیت اسی کا رہے گا جو پورا زمیندار بنے گا۔سو ایک طرح کی تخمریزی آپ نے بھی آج کی ہے۔خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ کس کے مقدر میں کیا ہے، لیکن خوش قسمت وہ ہے جو اس تخم کو محفوظ رکھے اور اپنے طور پر ترقی کے لیے دعا کرتا رہے۔مثلاً نمازوں میں ایک قسم کی تبدیلی ہونی چاہیے۔ نماز میں حضور اور لذت پیدا کرنے کا طریق میں دیکھتا ہوں کہ آج کل لوگ جس طرح نماز پڑھتے ہیں وہ محض ٹکریں مارنا ہے۔اُن کی نماز میں اس قدر بھی رقت اور لذت نہیں ہوتی جس قدر نماز کے بعد ہاتھ اُٹھا کر دعا میں ظاہر کرتے ہیں۔کاش یہ لوگ اپنی دعائیں نماز میں ہی کرتے۔شاید اُن کی نمازوں میں حضور اور لذت پیدا ہو جاتی۔اس لیے میں حکماً آپ کو کہتا ہوں کہ سردست آپ بالکل نماز کے بعد دعا نہ کریں۔اور وہ لذت اور حضور جو دعا کے لیے رکھ اہے،دعائوں کو نماز میں کرنے سے پید اکریں۔میرا مطلب یہ نہیں کہ نمازکے بعد دعا کرنی منع ہے ۔لیکن میں چاہتا ہوں کہ جب تک نماز میں کافی لذت اور حضور پیدا نہ ہو نماز کے بعد دعا کرنے میں نماز کی لذت کو مت گنوائو۔ہاں ج بیہ حضور پیدا ہو جاوے تو کوئی حرج نہیں۔سو بہتر ہے نماز میں دعائیں اپنی زبان میں مانگو۔جو طبعی جوش کسی کی مادری زبان میں ہوتا ہے وہ ہر گاز غیر زبان میں پیدا نہیں