ہوئے کہ یہ کتاب تصنیف ہوئی جو اس وقت مکہ،مدینہ،مصر،بخارا،لنڈن اور ایسا ہی ہندوستان کے ہر ایک حصہ میں پہنچ گئی۔کئی ایک پادیریوں اور دیگر مخالفینِ اسلام کے گھروں میں پہنچ گئی۔اب اس کتاب میں مثلاً لکھا ہے کہ خد اتعالیٰ کی طرف س یمجھے ارشاد ہے کہ اس وقت تو اکیلا ہے اور تیرے ساتھ کوئی نہیں لیکن ایک وقت آئے گا کہ لوگ تیرے پاس دور دور سے آئیں گے۔ (یا تونمن کل فج عمیق) تو لوگوں میں پہچانا جاوے گا اور تیری شہرت کی جاوے گی۔تیری امداد اور تائید کو دور دور سے لوگ آویں گے۔پھر کہا کہ لوگ کثرت سے آویں گے اور تو ان سے نرمی اور اخلاق سے پیش آنا۔اُن کی ملاقات سے مت گھبرانا۔ (ولا تصعر لخلق اﷲ ولا تسئم من الناس) پھر آخر کار فرمایا اذا جاء نصراﷲ والفتح و ان تھی امر الزمان الینا۔الیس ھذا بالحق۔ یعنی جب خدا تعالیٰ کی فتح اور نصرت آوے گی اور زمانہ کا امر ہماری طرف منتہی ہوگا تو اس وکت کہا جاوے گا کہ کیا یہ سلسلہ حق نہیں؟ اب لاہور اور امرت سر کے لوگ اور ایسا ہی پنجاب کے لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ براہین کی اشاعت کے وقت مجھے کوئی جانتا نہیں تھا۔حتیٰ کہ قادیان میں بہت کم لوگ ہوں گے جو مجھے پہچانتے ہوں گے۔پھر یہ امور کس طرح پورے ہو رہے ہیں؛ اگر چہ یہ پیشگوئیاں بدرجہ اتم ابھی پوری نہیں ہوئیں،لیکن جس قدر الہامات کا ظہر ہو رہا ہے وہ طالب حق کے لیے کافی ہے۔اب کیا یہ مریی بناوٹ ہے کہ ایک انسنا آج سے چوبیس سال پہیل آج کل کے واقعات کا نقشہ کھینچ سکتا ہے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ ہزار ہا مخلوق کا مرجع ہو گا۔خصوصاً جبکہ ایک مدت تک ان امور کا ظہور نہ ہوا۔جس سے صاف ظہار ہے کہیہ امور کسی فراست کا نتیجہ نہیں ہو سکتے۔ان امرو کو دیکھ کر میں کہہ سکتا ہوں کہ جس قدر نشانات خدا تعالیٰ نے میری تائید میں ظہار کئے وہ اپنی تعدات اور شوکت میں ایسے ہین کہ بجز حضرت نبی کریم ﷺ کل انبیاء و مرسلین سے ایسے ثابت نہیں ہوئے لیکن اس میں میرا کیا فخر ہے۔یہ سب کچھ تو اس پاک نبی کی فضیلت ہے۔جس کی امت میں ہونے کا مجھے فخر حاصل ہے۔ پھر میں کہتا ہوں کہ آج کل کے پیر زادوں اور سجادہ نشینوں کو آزمالو۔کسی پادری یا کسی مذہب کے سرگروہ کو میرے مقابل میں لائو۔خدا تعالیٰ نشان نمائی میں بالضرور اس کو میرے مقابل شرمندہ اور ذلیل کرے گا۔یہان تو نشناوں کا دریا بہہ رہا ہے۔میرے دوست اس الہام سے خوب واقف ہیں جو دس بارہ سال ہوئے خدا تعالیٰ نے فرمایا انی مھین من اراد اھا نتک وانی معین من اراد اعانتک اس ایک الہام کو کس قدر مواقع اور محل پر میرے دوستوں نے پورے ہوتے دیکھا۔کس طرح لوگوں نے میری اہانت اور تذلیل کے لیے بیڑے اٹھائے۔اور کس طرح وہ خود ہی زلیل اور خوار ہو گئے۔اس