ہو سکتا۔سو نمازوں میں قرآن اور ماثورہ دعائوں کے بعد اپنی ضرورتوں کو برنگ دعا اپنی زبان میں خد اتعالیٰ کے آگے پیش کرو تا کہ آہستہ آہستہ تم کو حلاوت پیدا ہو اجائے۔سب سے عمدہ دعا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا مندی اور گناہو ں سے نجات حاصل ہو ، کیونکہ گناہوں ہی سے دل سخت ہ جاتا اور انسان دنیا کا کیڑا بن جاتا ہے ۔ہماری دعا یہ ہونی چاہیے کہ خدا تعالیٰ ہم سے گناہوں کو جو دل کو سخب کر دیتے ہیں دور کر دے اور اپنی رضا مندی کی راہ کھالئے۔دنیا میں مومن کی مثال اس سواری کی ہے کہ جو جنگل میں جا رہا ہے۔راہ میں بسبب گرمی اور تھکان سفر کے ایک درخت کے نیچے سستانے کے لیے ٹھہرجاتا ہے لیکن ابھی گھوڑے پر سوار ہے اور کھڑا کھڑا گھوڑے پر ہی کچھ آرام لے کر آگے اپنے سفر کو جاری رکھتا ہے لیکن جو شخص اس جنگل میں گھر بنا لے وہ ضرور درندوں کا شکار ہو گا۔مومن دنیا کو گھر نہیں بناتا اور جو ایسا نہیں خدا تعالیٰ اس کی پروا نہیں کرتا نہ خدا تعالیٰ کے نزدیک دنیا کو گھر بنانے والے کی عزت ہے۔خدا تعالیٰ مومن کی عزت کرتا ہے۔ نوافل کی حقیقت حدیث میں آیا ہے کہ مومن نوافل کے ساتھ خد اتعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے۔نوافل سے مراد یہ ہے کہ خدمت مقررہ کر دہ میں زیادتی کی جاوے ہر ایک خیر کے کام میں دنیا کا بندہ تھوڑا سا کر کے سست ہو جاتا ہے،لیکن مومن زیادتی کرتا ہے۔نوافل صرف نماز سے ہی مختص نہیں بلکہ ہر ایک حسنات میں زیادتی کرنا نوافل ادا کرنا ہے۔مومن محض خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ان نوافل کی فکر میں لگا رہتا ہے۔اس کے دل میں درد ہے جو اسے بے چین کرتا ہے اور وہ دن بہ دن نوافل و حسنات میں ترقی کرتا جاتا ہے اور بالمقابل خدا تعالیٰ بھی اس کے قریب ہوتا جاتا ہے حتیٰ کہ مومن اپنی ذات کو فنا کر کے خدا تعالیٰ کے سایہ تلے آجاتاہے۔اس کی آنکھ خدا تعالیٰ کی آنکھ ۔اس کے کان خدا تعالٰی کے کان ہو جاتے ہیں۔کیونکہ وہ کسی معاملہ میں خدا تعالیٰ کی مخالفت نہیں کرتا۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس کی زبان خدا تعالیٰ کی زبان اور ا سکا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہو جاتا ہے۔ مومن کا مقام پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے کسی بات میں اس قدر تردد نہیں ہوتا۔جس قدر مومن کی جان نکالنے میں تردد ہوتا ہے۔یون تو خدا تعالیٰ کی ذات سب ترددات سے پاک ہے لیکن یہ فقرہ جو فرمایا تو مومن کے اکرام کے لیے فرمایا۔اب دوسرے لوگ کیڑے مکوڑوں کی طرح مر جاتے ہیں لیکن مومن کا معاملہ دگر گوں ہے۔مجھے یہ سمجھ آتی ہے کہ جو صلحاء اور انبیاء کی زندگی آئے دن طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا رہتی ہے اور بعض وقت اُن کو خوفناک امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔جیسے کہ ہمارے رسول خدا ﷺ کی صورت تھی۔یہ اُس تردد کا اظہار ہے