ولکن اﷲ رمی ہمارے اشتہارات کے شائع ہونے کے بعد الہام ہوا ہے۔ جس سے خدا تعالیٰ کا ارادہ قطعی ثابت ہوتا ہے۔ ہم نے جو کچھ اخراجات ہزاروں تک خیمے وغیرہ منگواکرکئے ہیں۔ وہ دھوکے کی بنا پر نہیں کئے۔ ہمیں خد اکی باتوں پر ایمان ہے۔ تاریخ کا مقررنہ ہوان یا وقت کی کمی بیشی پیشگوئی کے ظاہر ہونے کی وقعت میں کچھ کمی نہیں ڈال سکتے۔ قرآن شریف ان ادری اقریب ام بعید ما توعدون (الانبیاء : ۱۱۰) (میں نہیں جانتا کہ عذاب کے نزول کا وقت قریب ہے یا بعید) صاف بتاتا ہے کہ ہر ایک عذاب کی مقررہ تاریخ نہیں بتائی جاتی۔؎ٰ ۲۷؍مئی ۱۹۰۵ء؁ ایک جلیل القدر الہام عبد القادر رضی اﷲ عنہ۔ اری رضوانہ۔ اﷲ اکبر پہلی وحی کے متعلق فرمایا کہ : خدا اپنی کچھ قدرتیں میرے واسطے ظاہر کرنے والا ہے۔ اس واسطے میرا نام عبد القادر رکھا۔ رضوان کا لفظ دلالت کرتا ہے کہ کوئی فعل دنیا میں خدا کی طرف سے ایسا ظاہر ہونے والا ہے جس سے ثابت ہو جائے اور دنیا پر روشن ہو جائے کہ خد امجھ پر راضی ہے۔ دنیا میں بھی ج ب بادشاہ کسی پر راضی ہوتا ہے، تو فعلی رنگ میں بھی اس کی رضا مندی کا کچھ اظہار ہوتا ہے اس کے معنے یہ ہیں کہ اس کی رضا پر دلالت کرنے والے افعال دیکھتا ہوں۔ مومن کو اﷲ تعالیٰ کی رصا بہت پیاری ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ مومنین جب بہشت میں داخل کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اب مانگو جو کچھ مانگنا چاہتے ہو تو وہ عرض کریں گے کہ اے رب تو ہم پر راضی ہو جا۔ جواب ملے گا۔ اگر میں راضی نہ ہوتا تو تم کو بہشت میں کس طرح داخل کرتا۔ ؎ٰ ۲۸؍مئی ۱۹۰۵ء؁ ایک رؤیا شیخ رحمت اﷲ صاحب کی ایک گھڑی میرے پاس ہے اور ایک ایسی چیز جیسے ترازو