سرخرو ہوں اور انہوں نے کبھی کم ہمتی اور بزدلی نہیں دکھائی۔
سب سے بڑھ کر راحت
دعا کے متعلق آپ نے فرمایا کہ :
اِدھر کی جاتی ہے اور اُدھر جواب ملتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا راحت ہو سکتی ہے اور یہی مابہ الامتیاز امر ہوتا ہے جو مامورین اور دوسروں میں رکھ دیا جاتا ہے۔
استجابت دعا کا ایک وقت ہوتا ہے
فرمایا :
شیخ صاحب میں آپ کے لیے پانچ وقت دعا کرتاہوں لیکن استجابت کا ایک وقت ہوتا ہے انسان کو بعض وقت ایک ہی سمت مقصود ہوتی ہے۔ مگر خدا تعالیٰ مومن کے لیے دنیا اور آخرت میں سنوار چاہتا ہے۔ اس لیے بعض وقت ابتلاء آجاتے ہیں جو بالآخر بابرکت ہوتے ہیں۔ بعض انسانی کمزوریوں کا علاج یہ مصائب ہوتے ہیں۔ انسان میں بیشک بعض کمزوریاں ایسی ہوتی ہیں جن کو یہ سمجھ نہیں سکتا۔ لیکن میری دعائیں ایسی ہوتی ہیں کہ محل قبولیت تک پہنچتی ہیں۔ وقت شرط ہے۔
پھر ایک طرف مخاطب ہو کر فرمایا :
میں آپ کے لیے دعا کرتا ہوں لیکن کل کے امر میں میں نے خیال کیا تو میں نے سمجھا کہ شاید یہی امور میری دعا کی استجابت میں مانع ہوں مگر آپ کے لکھنے پر مجھے اصل واقعہ کی حقیقت معلوم ہوئی ۔ دعا کی قبلیت میں تاخیر ڈالنے والے یا دعا کے ثمرات سے محروم کرنے والے بعض مکروہات ہوئے ہیں جن سے انسان کو بچنا لازم ہے۔
مصائب دنیا میں آکر آخرت میں موجب مدارج ہوتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ثواب ملتا دیکھ کر بعض لوگ کہیں گے کہ کاش ہمارے وجود بھی قینچیوں سے کاٹے جاتے اور ہم بھی یہ معاوضے حاصل کرتے۔ سب سے بڑھ کر مصائب انبیاء پر آتے ہیں۔ ہمارے رسول ﷺ کو دیک لو زندگی میںکیاکای تکلیفیں اُٹھانی پڑیں۔ غرضیکہ گھبرانا نہیں چاہیے۔
اپنے الہامات پر یقین کامل
ہمیں زلزلے کے متعلق پورا اطمینان ہے۔
ما رمیت اذرمیت