چنگا بھلا پھرتا تھا۔ لیکن آسمان پر اس کے لیے ہلاکت کا حکم ہو چکا تھا۔ اس واسطے یہ بات ایسے طور پر بیان کی گئی کہ یہ کام ہو چکا ہے۔ پہلے ایک معاملہ آسمان پ رہو جاتا ہے اور پھر زمین پر اس کا ظہور ہوتا ہے۔ ایسا ہی ہمارا الہام عفت الدیار والا تھا یعنی مٹ گئے گھر۔ اگر چہ گیارہ ماہ پہلے یہ زلزلہ کی پیشگوئی تھی؛ تاہم چونکہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو ثکا تھا کہ زلزلہ ضرور آئے گا اس واسطے اﷲ تعالیٰ نے فرمایاکہ مکانات عارضی اور مستقل سب گر گئے اور نشان مٹ گئے۔ جو لوگ مثلاً پیسہ اخبار کے نامہ نگار وغیرہ اعتراض کرتے ہیں وہ اس محاورہ سے ناواقف اور جاہل ہیں یا جان بوجھ کر تعصب کے ساتھ ضد کرتے ہیں؛ ورنہ یہ محاورہ سب زبانوں میں پایا جات اہے۔ آتھم کے متعلق جب ہم نے پیشگوئی کی تھی تو اس نے اسی مجلس میں کہا تھ کہ میں مر گیا۔ باوجود عیسائی ہوین کے وہ ادب کا بہت لحاظ رکھتا تھا اور یہی سبب تھا کہ وہ ڈرتا رہا اور میعاد کے اندر مرنے سے بچ گیا۔ ابو لہب کے متعلق صاف پیشگوئی مکہ میں کی گئی تھی کہ وہ ہلاک ہو گیا۔ حالنکہ وہ جنگ بدرؔ کے بعد طاعون سے مرا تھا۔
فرمایا :
روح دریحان سے مراد ہر قسم کی آسائش اور آسودگی ہوتی ہے۔؎ٰ
مبارک منہ کے مبارک الفاظ معناً
(مرقومہ شیخ عبد الرحیم صاحب)
بوقت ۹ بجے ۲؎ آپ باہر تشریف لائے۔ شیخ رحمت اﷲ صاحب نو وارد اور مولوی صاحبان اور دیگر احباب محفل موجود تھے۔ اِِدھر اُدھر کی باتوں میں ئپ نے فرمایا کہ :
ہم خدا کے مرسلین اور مامورین کبھی بزدل نہیں ہوا کرتے بلکہ سچے مومن بھی بزدل نہیں ہوتے بزدلی ایمان کی مزوری کی نشانی ہے۔ صحابہ رضی اﷲ عنہم پر مصیبتوں نے بار بار حملے کئیمر انہوں نے کبھی بزدلی نہیں دکھائی۔ خدا تعالیٰ اُن کی نسبت فرماتا ہے۔
منہم من قضی نحبہ ومنہم من ینتظر وما بدلو اتبدیلا (الاحزاب : ۲۴)
یعنی جس ایمان پر انہوں نے کمر ہمت باندھی تھی اس کو بعض نے تو نبھادیا اور بعض منتظر ہیں کہ کب موقعہ ملے اور