۲۶؍میء ۱۹۰۵ی؁ چند الہامات اور ایک رؤیا فرمایا: گھر میں طبیعت علیل تھی۔ بہت سر درد۔ بخار اور کھانسی بھی تھی۔ لوگوں کے لیے ابتلاء کا خوف ہوتا ہے۔ میں نے رات بہت دعا کی۔ (شیخ رحمت اﷲ صاحب کو مخاطب کرکے) آپ کے لیے بھی دعا کی تھی۔ پہلے تو ایک مشتبہ سا الہام ہوا۔ معلوم نہیں کس کے متعلق ہے اور وہ یہ ہے : (۱)شر الذین انعمت علیہم (ترجمہ) شرارت ان لوگوں کی جن پر تو نے انعام کیا (۲) میں اُن کو سزا دوں گا (۳) میں اس عورت کو سزادوں گا۔ معلوم نہیں یہ کس کے متعلق ہے۔ اس کے بعد گھر والون کے متعلق یہ الہام ہوا۔ رد الیھا روحھا وریحانہا۔ انی رددت الیہا روحھا وریحانہا رؤیا :۔ اسی وقت جبکہ مذکورہ بالا الہام ہوا۔ دیکھا کہ کسی نیک ہا کہ آنویوالے زلزلہ کی یہ نشانی ہے۔ جب میں نے نظر اُٹھائی تو دیکھا کہ اس ہمارے خیمہ کے سر پر سے جو باغ کے قریب نصب کیا ہوا ہے ایک ثیز گری ہے۔ خیمہ کی چواب کا اُوپر کا سرا وہ چیز ہے۔؎ٰ جب میں نے اُٹھایا تو وہ ایک لونگ ہے جو عورتوں کے ناک میں ڈالنے کا یاک زیور ہے۔ اور ایک کاغذ کے اندر لپٹا ہوا ہے۔ میرے دل میں خیال گذرا کہ یہ ہمارے ہی گھر کا مدت سے کھویا ہوا تھا اور اب ملا ہے اور زمین کی بلندی سے ملا ہے اور یہی نشانی زلزلہ کی ہے۔ ۲؎ آج کی تازہ وحی ردالیہا روحھا وریحانہا کا ذکر تھا۔ فرمایا : اس میں بھی اﷲ تعالیٰ نے ماضی کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ تمام سمادی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کسی امر کے ضرور آئندہ روا ہو جانے کے متعلق کسی پیشگوئی کو ظاہر فرماتے وقت ماضی کا صیغہ استعمال کرتا مثلاً قرآن شریھ میں آیا ہے تبت یداابی لھب وتب (الھب : ۲) ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور خود بھی ہلاک ہو گیا۔ یہ وحی الٰہی بطور پیشگوئی کے ایسے وقت میں نازل ہوئی تھی جبکہ ابو لہب