چاہیے جب ایسی حالت کو پہنچ جائے جیسے موت کی حالت ہوتی ہے تب اس کانام صلوٰۃ ہوتا ہے۔
نماز میں وساوس کی وجہ
ایک شخص نے سوال کیاکہ مجھے نماز میں وساوس اور ادھر اُدھر کے خیالات بہت پیدا ہوتے ہیں۔ فرمایا :
اس کی اصل جڑ امن اور غفلت ہے۔ جب انسان خدا تعالیٰ کے عذاب سے غافل ہو کر امن میں ہو جاتا ہے تب وساوس ہوتے ہیں۔دیکھو زلزلے کے وقت اور کشتی میں بیٹھ کر جب کشتی خوفناک مقام پر پہنچتی ہے۔ سب اﷲ اﷲ کرتے ہیں اور کسی کے دل میں وساوس پیدا نہیں ہوتے۔
مخالفین کا وجود بھی ضروری ہے
ذکر آیا کہ بعض جگہ مخالفین ہماری جماعت کے لوگوں کو بہت دکھ دیتے ہیں اور بڑی بڑی ایذارسانی کرتے ہیں۔فرمایا :
خدا تعالیٰ کے آگے کسی کا نابود کرنا مشکل نہیں۔ لیکن جس کی طاقتیں بڑی ہوتی ہیں اس کا حوصلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ لیکن ایسے آدمیوں کا وجود بھی ضروری ہے۔ اعداء کا وجود انبیاء کے واسطے بہت مفید ہوتا ہے۔ قرآنشریھ کے جو تیس سیپارے ہیں۔ اس کے اکثر حصہ کے نزول کا سبب اعداء ہی ہوئے۔ اگر سب ابو بکرؓ کی طرح امنّا و صدقنا کہنے والے ہوتے تو چند آیتوں پر سلسلہ ختم ہو جاتا۔ درخت کے واسطے جیسے صاف پانی کی ضرورت ہے ویسے ہی کچھ کھاد کے لیے گند کی بھی ضرورت ہے۔ بہت سی آسمانی سرگرمی انہی لوگوں کی شرارتوں پر منحصر ہے۔ کوئی بھی نہیں جس کے اعداء نہیں ہوئے۔ نبی کے نفس کے واسطے یہ امر بہتر ہے کیونکہ اس طرح اس کی توجہ بڑھتی ہے اور معجزات تائید و نصرت زیادہ ہوتے ہیں اور جماعت کے واسطے بھی مفید ہے کہ وہ پکے ہو جاتے ہیں۔ خدا کو دیر نہیں لگتی کہ لاکھوں کروڑوں کو ایک آن میں تباہ کر دے لیکن ضرورت کے سبب مخالفین کا وجود قائم رکھا جاتا ہے۔ جس شہر میں خاموشی سی ہو اس جگہ بجماعت ترقی نہیں پکڑتی۔ خدا کی حکمتوں کو ہر ایک شخص نہیں پہچان سکتا۔؎ٰ