میں ارادہ کرتا ہوں جو تم ارادہ کرتے ہو۔ چونکہ ہمارے ارادے دوستوں کے واسطے مشترک ہیں جن کے لیے ہم دعائیں کرتے ہیں اس واسطے اس میں سب کے واسطے بشارت ہے۔ یہ وحی قبولیت دعا کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یعنی تمہارے ارادے کے موافق ہمارا ارادہ ہے۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے عرض کی کہ یہ قرآن شریف کی اس وحی کے مطابق ہے کہ ایناما تولو افثم وجہ اﷲ (البقرہ : ۱۱۶) قبولیت دعا کے اوقات شیخ رحمت اﷲ صاحب کو فرمایا کہ : ہم آپ کے واسطے دعا کرتے ہین آپ بھی اس وقت دعا کیا کریں۔ ایک تو رات کے تین بجے تہجد کے واسطے خوب وقت ہوتا ہے۔ کوئی کیسا ہی ہو تین بجے اُٹھنے میں اس کے لیے ہرج نہیں۔ اور دوسرا جب اچھی طرح سورج چمک اُٹھے تو اس وکت ہم بیت الدعا مین بیٹھے ہیں۔ یہ دونوں وقت قبولیت کے ہیں۔ نماز میں تکلیف نہیں۔سادگی کے ساتھ اپنی زبان میں اﷲ تعالیٰ کے حضور میں دعا کرے۔ صلوٰۃ ارو دعا میں فرق فرمایا : ایک مرتبہ میں نے خیال کیا کہ صلوٰۃ اور دعا میں کیا فرق ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ الصلوٰۃ ھی الدعاء۔ الصلوٰۃ مخ العبادۃ یعنی نماز ہی دعا ہے۔ نماز عبادت کا مغز ہے۔ جب انسان کی دعا محض دنیوی امور کے لیے ہوتو اس کان نام صلوٰۃ نہیں، لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کو مد نظر رکھتا ہے اور ادب انکاسار تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے۔ تب وہ صلوٰۃ میں ہوتا ہے۔اصل حقیقت دعا کی وہ ہے جس کے ذریعہ سے خدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔ یہی دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے اور انسنا کونا معقول باتوں سے ہٹاتی ہے۔اصل بات یہی ہے کہ انسان رضائے الٰہی کو حاصل کرے۔ اس کے بعد روا ہے کہ انسان اپنی دنیوی ضروریات کے واسطے بھی دعا کرے۔ یہ اس واسطے روا رکھا گیا ہیکہ دنیوی مشکلات بعض دفعہ دینی معاملات میں حارج ہو جاتے ہیں۔ خاص کر خامی اور کج پنے کے زمانہ میں یہ امور ٹھوکر کا موجب بن جاتے ہیں۔ صلوٰۃ کا لفظ پر سوز معنے پر دلالت کرتا ہے جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے۔ ویسی ہی گدازش دعا میں پیدا ہونی