ہیں اور ہمیں سناتے ہیں۔ فرمایا : مخالفین خواہ مخواہ ایسی بات کرتے ہیں جس سے تم کو اشتعال پیدا ہو اور لڑائی ہو جائے۔ ایسے فتنوں سے بچنا چاہیے اور صبر کرنا چاہیے ۔ جو شخص کسی پر تہمت لگاتا ہے وہ مرتا نہیں جبتک کہ اس میں گرفتار نہ ہوجائے۔ ایک خادم نے عرص کی کہ تمام قسم کے دردوں کے واسطے عمدہ علاج ہے کہ بھرجی کیر یت ہو۔ اس پر الحمد لکھا جائے وغیرہ وغیرہ۔ فرمایا : یہ توجہ کی ایک قسم ہے مگر یاد رکھو کہ دعا جیسی پاک صاف شرک سے خالی کوئی توجہ نہیں۔ دوسری قسم کی توجہوں میں انسان کا بھروسہ اشیء پر ہوت اہے۔ جب قبلہ حقیقی کی طرف توجہ نہ ہو تو پھر بے فائدہ ہے۔ فرمایا : انگریزی میں سونے کو گولڑ کہتے ہیں جس کے لکھانے میں انگریزی حروف ج۔د۔ل استعمال ہوتے ہیں۔ یہ عربی لفظ دجال کا مقلوب ہے۔ عربی میں دجال سونے کو کہتے ہیں۔ اس زمانہ کی سہولتیں ہماری خادم ہیں اس زمانہ کے عجائبات کا تذکرہ تھا کہ ریل تار ڈاک وغیرہ کس قدر سہولتیں پیدا ہو گئی ہیں۔ فرمایا : اسی واسطے ہم کو الہام ہوا۔ الم نجعل لک سھو لۃ کیا ہم نے تیرے ہر امر میں سہولت نہیں کردی۔حقیقت میں یہ اشیاء کسی کے لیے ایسی مفید نہیں ہوئیں جیسی کہ ہمارے واسطے ہوئی ہیں۔ ہامرا مقابلہ دین کا ہے اور ان اشیاء سے جو نفع ہم اُٹھاتے ہین وہ دائمی رہنے والا ہے۔ لوگ بھی چھاپے خانوں سے فائدے اٹھات ہیں لیکن اُن کے اغراض دنیوی اور ناپائدار ہیں۔ بر خلاف اس کے ہامرے معاملات دینی ہیں۔ اس واسطے یہ چھاپے خانے جو اس زمانہ کے عجائبات ہیں دراصل ہمارے ہی خادم ہیں۔ ایک الہام فرمایا: آج رات یہ وحی ہوئی ارید ما تریدون