۱۶؍مئی ۱۹۰۵ء؁ فرمایا: سورہ اذا زلزلت الارض میں زلزلہ کے واسطے صاف پیشگوئی ہے کہ زمین پر سخت زلزلہ آئے گا۔ اور زمین اندر کی چیزیں باہر نکال پھینکے گی۔ پہاڑوں کی ساخت فرمایا: قرآن شریف میں آیا ہے کہ پہاڑ زمین کی میخیں ہیں۔ نادان اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کیا بات ہے۔ اس زلزلہ نے اس اعتراض کو بھی صاف کیا ہے۔ ان آتش فشانیوں اور زلزلوں کا موجب یہ پہاڑ ہی ہوا کرتے ہیں۔ص جب پہاڑوں پر تباہی پڑتی ہے تو سب پر تباہی پڑتی ہے۔ پہاڑ امن یا بے امنی کا مرکز بنا ہوا ہے۔؎ٰ ۱۷؍مئی ۱۹۰۵ء؁معالج کے لئے ہدایت ایک ڈاکٹر صاحب کا ذکر آیا کہ انہوں نے ایک بیماری کو خوفناک بتایا تھا۔ بعد میں معلومہوا کہ وہ تندرست ہے۔ فرمایا : یہ لوگ ایسی غلطیاں کھاتے ہیں۔ ہمارے مسلمان اطباء میں کیا عمدہ بات ہے کہ لکھا ہے کہ نبض دیکھنے سے پہلے طبیب یہ پڑھا کرے۔ سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم (البقرۃ : ۳۳) تو پاک ہے ہمیں کوئی علم نہیں سوا اس کے جو تونے ہم کو سکھایا تحقیق تو علم اور حکمت والا ہے۔ ۲؎ ۲۴؍مئی ۱۹۰۵ء؁ ایک خادم نے عرض کی کہ مخالف حضور کی نسبت جھوٹی خبریں بیماری وغیرہ کی شائع کرتے رہتے